بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن نسائی

حدیث نمبر: 2277 — باب: اس حدیث میں معاویہ بن سلام اور علی بن المبارک کے یحییٰ بن ابی کثیر پر اختلاف کا ذکر۔
کتب سنن نسائی کتاب: روزوں کے احکام و مسائل و فضائل باب: اس حدیث میں معاویہ بن سلام اور علی بن المبارک کے یحییٰ بن ابی کثیر پر اختلاف کا ذکر۔ حدیث 2277
حدیث نمبر: 2277 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حِبَّانُ ، عَبْدُ اللَّهِ ، ابْنِ عُيَيْنَةَ ، أَيُّوبَ ، شَيْخٍ ، عَمِّهِ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حِبَّانُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ شَيْخٍ مِنْ قُشَيْرٍ، عَنْ عَمِّهِ حَدَّثَنَا، ثُمَّ أَلْفَيْنَاهُ فِي إِبِلٍ لَهُ , فَقَالَ لَهُ أَبُو قِلَابَةَ حَدِّثْهُ , فَقَالَ الشَّيْخُ: حَدَّثَنِي عَمِّي، أَنَّهُ ذَهَبَ فِي إِبِلٍ لَهُ فَانْتَهَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَأْكُلُ، أَوْ قَالَ: يَطْعَمُ , فَقَالَ:" ادْنُ فَكُلْ"، أَوْ قَالَ:" ادْنُ فَاطْعَمْ" , فَقُلْتُ: إِنِّي صَائِمٌ، فَقَالَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَضَعَ عَنِ الْمُسَافِرِ شَطْرَ الصَّلَاةِ وَالصِّيَامَ وَعَنِ الْحَامِلِ وَالْمُرْضِعِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ایوب قبیلہ قشیر کے ایک شیخ سے، اور وہ قشیری اپنے چچا ۱؎ سے روایت کرتے ہیں، (ایوب کہتے ہیں) ہم سے حدیث بیان کی گئی، پھر ہم نے انہیں (شیخ قشیری کو) ان کے اونٹوں میں پایا، تو ان سے ابوقلابہ نے کہا: آپ ان سے (ایوب سے) حدیث بیان کیجئے تو (قشیری) شیخ نے کہا: مجھ سے میرے چچا نے بیان کیا کہ وہ اپنے اونٹوں میں گئے، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس پہنچے، آپ کھانا کھا رہے تھے (راوی کو شک ہے «یا ٔکل» کہا یا «یطعم» کہا) آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: قریب آؤ اور کھانا کھاؤ (راوی کو شک ہے «ادن فکل» کہا یا «ادن فاطعم» کہا) تو میں نے کہا: «مںَ صائم» ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مسافر کو آدھی نماز اور روزے کی چھوٹ دے دی ہے، اور حاملہ عورت اور دودھ پلانے والی عورت کو بھی ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2277]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر رقم2276 (حسن) (متابعات سے تقویت پاکر یہ روایت حسن ہے، ورنہ اس کی سند میں ایک مبہم راوی ہے)»
وضاحت
۱؎: ان کا نام انس بن مالک قشیری ہے۔ ۲؎: حاملہ اور مرضعہ کو روزے کی چھوٹ دی ہے، نہ کہ آدھی نماز کی، جیسا کہ متبادر ہو رہا ہے، ترمذی کی عبارت واضح ہے مسافر کو روزہ اور آدھی نماز کی چھوٹ دی ہے، اور حاملہ و مرضعہ کو روزے کی۔
قال الشيخ الألباني
حسن
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: حسن
← پچھلی حدیث (2276) باب پر واپس اگلی حدیث (2278) →