سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ ، عَبْدُ اللَّهِ ، خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، أَبِي قِلَابَةَ ، رَجُلٍ
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ رَجُلٍ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَةٍ فَإِذَا هُوَ يَتَغَدَّى , قَالَ:" هَلُمَّ إِلَى الْغَدَاءِ" , فَقُلْتُ: إِنِّي صَائِمٌ , قَالَ:" هَلُمَّ أُخْبِرْكَ عَنِ الصَّوْمِ، إِنَّ اللَّهَ وَضَعَ عَنِ الْمُسَافِرِ نِصْفَ الصَّلَاةِ وَالصَّوْمَ وَرَخَّصَ لِلْحُبْلَى وَالْمُرْضِعِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ایک صحابی کہتے ہیں: میں ایک ضرورت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس پہنچا اتفاق کی بات آپ اس وقت دوپہر کا کھانا کھا رہے تھے، آپ نے کہا: آؤ کھانا میں شریک ہو جاؤ، میں نے عرض کیا: میں روزے سے ہوں، آپ نے فرمایا: آؤ میں تمہیں روزے کے متعلق بتاتا ہوں، اللہ تعالیٰ نے مسافر کو آدھی نماز اور روزے کی چھوٹ دی ہے، اور حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت کو بھی چھوٹ دی ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2279]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم: 2276و2277 (حسن)»
وضاحت
۱؎: اگر ان کے روزہ رکھنے سے پیٹ کے بچہ کو یا شیرخوار بچہ کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو تو اوہ روزہ نہ رکھیں۔
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: حسن