هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْمِصْرِيُّ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ:" قَعَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى يَوْمَ النَّحْرِ لِلنَّاسِ فَجَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ، قَالَ: لَا حَرَجَ، ثُمَّ جَاءَهُ آخَرُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي نَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ، قَالَ: لَا حَرَجَ، فَمَا سُئِلَ يَوْمَئِذٍ عَنْ شَيْءٍ قُدِّمَ قَبْلَ شَيْءٍ، إِلَّا قَالَ: لَا حَرَجَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دسویں ذی الحجہ کو منیٰ میں لوگوں (کو حج کے احکام بتانے) کے لیے بیٹھے، تو ایک شخص آپ کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے ذبح کرنے سے پہلے سر منڈوا لیا؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی حرج نہیں“، پھر دوسرا شخص آیا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے کنکریاں مارنے سے پہلے قربانی کر لی؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی حرج نہیں“، آپ سے اس دن جس چیز کے بارے میں بھی پوچھا گیا جسے کسی چیز سے پہلے کر لیا گیا ہو تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہی فرمایا: ”کوئی حرج نہیں“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3052]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2398، ومصباح الزجاجة: 1059)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/326) (حسن صحیح)»
وضاحت
۱؎: صحیحین میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جمرہ کے پاس کھڑے تھے، ایک شخص نے آ کر کہا: میں نے رمی سے پہلے بال منڈا دیے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”رمی کر لو کچھ حرج نہیں“، دوسرے نے کہا: میں نے رمی سے پہلے ذبح کیا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”رمی کر لو کچھ نہیں ہے“، تیسرے نے کہا: میں نے رمی سے پہلے طواف افاضہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”رمی کر لو کچھ حرج نہیں ہے“، غرض جس چیز کے متعلق اس دن سوال ہوا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اب کر لو کچھ حرج نہیں“ اور اہل حدیث کا عمل انہی حدیثوں پر ہے، ان اعمال کی اگر تقدیم و تاخیر سہو سے ہو جائے تو کچھ نقصان نہیں، نہ دم لازم آئے گا۔
قال الشيخ الألباني
حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: حسن صحيح