عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، أَيُّوبَ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" مَا سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمَّنْ قَدَّمَ شَيْئًا قَبْلَ شَيْءٍ، إِلَّا يُلْقِي بِيَدَيْهِ كِلْتَيْهِمَا لَا حَرَجَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جب بھی اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے حج کے کسی عمل کو دوسرے پر مقدم کر دیا، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں سے یہی اشارہ کیا کہ ”کوئی حرج نہیں“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3049]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/العلم 24 (84)، الحج 125 (1723)، 130 (1735)، الأیمان 15 (6666)، (تحفة الأشراف: 5999)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحج 57 (1307)، سنن ابی داود/الحج 79 (1983)، سنن النسائی/الحج 224 (3069)، مسند احمد (1/216، 269، 291، 300، 311، 328) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري
الحكم: صحيح