أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ ، يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْأَلُ يَوْمَ مِنًى، فَيَقُولُ: لَا حَرَجَ لَا حَرَجَ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ؟، قَالَ: لَا حَرَجَ، قَالَ: رَمَيْتُ بَعْدَ مَا أَمْسَيْتُ؟، قَالَ: لَا حَرَجَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ منیٰ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے: ”کوئی حرج نہیں، کوئی حرج نہیں“، ایک شخص نے آ کر کہا: میں نے قربانی سے پہلے حلق کر لیا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی بات نہیں“، دوسرا بولا: میں نے رمی شام کو کی، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی بات نہیں“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3050]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الحج 125 (1723)، 130 (1735)، سنن ابی داود/المناسک 79 (1983)، سنن النسائی/مناسک الحج 224 (3069)، (تحفة الأشراف: 6047)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/216، 258، 269، 291، 300، 311، 382) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: جمرہ کبری کو کنکری مارنا، ہدی کا جانور ذبح کرنا، بالوں کا حلق (منڈوانا) یا قصر (کٹوانا) پھر طواف افاضہ (طواف زیارت) (یعنی کعبۃ اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی) میں ترتیب افضل ہے مگر باب کی روشنی میں رمی، ذبح حلق اور طواف میں ترتیب باقی نہ رہ جائے تو دم لازم نہیں ہو گا، اور نہ ہی حج میں کوئی حرج واقع ہو گا۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري
الحكم: صحيح