بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: نفاس اور حیض والی عورتیں حج کا تلبیہ پکار سکتی ہیں۔
Sunan Ibn Majah
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: حج و عمرہ کے احکام و مسائل باب: نفاس اور حیض والی عورتیں حج کا تلبیہ پکار سکتی ہیں۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 2911 سنن ابن ماجہ
عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" نُفِسَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ بِالشَّجَرَةِ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا بَكْرٍ، أَنْ يَأْمُرَهَا أَنْ تَغْتَسِلَ وَتُهِلَّ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کو مقام شجرہ میں نفاس آ گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ اسماء سے کہیں کہ وہ غسل کر کے تلبیہ پکاریں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2911]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الحج 16 (1209)، سنن ابی داود/الحج 10 (1743)، سنن النسائی/الحیض 24 (215)، الحج 57 (2761)، (تحفة الأشراف: 17502)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج 41 (127، 128)، سنن الدارمی/المناسک 11 (1845)، 34 (1892) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: شجرہ: ذوالحلیفہ میں ایک درخت تھا جس کی مناسبت سے اس جگہ کا نام شجرہ پڑ گیا۔ اس وقت عوام میں یہ مقام «بئر علی» کے نام سے مشہور ہے۔ صحیح بخاری اورصحیح مسلم میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب انہیں حیض آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ ہر ایک کام کرو جو حاجی کرتے ہیں، فقط بیت اللہ (خانہ کعبہ) کا طواف نہ کرو جب تک کہ غسل نہ کر لو۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 2912 سنن ابن ماجہ
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي بَكْرٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ :" أَنَّهُ خَرَجَ حَاجًّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ، فَوَلَدَتْ بِالشَّجَرَةِ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ، فَأَتَى أَبُو بَكْرٍ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنْ يَأْمُرَهَا أَنْ تَغْتَسِلَ، ثُمَّ تُهِلَّ بِالْحَجِّ، وَتَصْنَعَ مَا يَصْنَعُ النَّاسُ، إِلَّا أَنَّهَا لَا تَطُوفُ بِالْبَيْتِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوبکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ حج کے لیے نکلے، ان کے ساتھ (ان کی بیوی) اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا تھیں، ان سے مقام شجرہ (ذوالحلیفہ) میں محمد بن ابی بکر کی ولادت ہوئی، ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئے، اور آپ کو اس کی اطلاع دی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ اسماء سے کہیں کہ وہ غسل کریں، پھر تلبیہ پکاریں اور احرام باندھیں، اور وہ تمام کام انجام دیں، جو دوسرے لوگ کریں البتہ وہ بیت اللہ کا طواف نہ کریں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2912]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن النسائی/الحج 26 (2665)، (تحفة الأشراف: 6617) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: طواف ایک ایسی عبادت ہے جس میں طہارت شرط ہے، اسی وجہ سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسماء رضی اللہ عنہا کو طواف سے روک دیا۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 2913 سنن ابن ماجہ
عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، سُفْيَانَ ، جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، أَبِيهِ ، جَابِرٍ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ:" نُفِسَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ بِمُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، فَأَرْسَلَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهَا، أَنْ تَغْتَسِلَ، وَتَسْتَثْفِرَ بِثَوْبٍ وتُهِلَّ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کو محمد بن ابی بکر کی (ولادت کی) وجہ سے نفاس (کا خون) آیا، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کہلا بھیجا، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں غسل کرنے، اور کپڑے کا لنگوٹ کس کر احرام باندھ لینے کا حکم دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2913]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الحج 16 (1210)، سنن ابی داود/الحج 10 (1743)، سنن النسائی/الحیض 24 (215)، الحج 57 (2762، 2763)، (تحفة الأشراف: 2600)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج 41 (127، 128)، سنن الدارمی/المناسک 11 (1845) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح