عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، سُفْيَانَ ، جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، أَبِيهِ ، جَابِرٍ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ:" نُفِسَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ بِمُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، فَأَرْسَلَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهَا، أَنْ تَغْتَسِلَ، وَتَسْتَثْفِرَ بِثَوْبٍ وتُهِلَّ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کو محمد بن ابی بکر کی (ولادت کی) وجہ سے نفاس (کا خون) آیا، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کہلا بھیجا، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں غسل کرنے، اور کپڑے کا لنگوٹ کس کر احرام باندھ لینے کا حکم دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2913]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الحج 16 (1210)، سنن ابی داود/الحج 10 (1743)، سنن النسائی/الحیض 24 (215)، الحج 57 (2762، 2763)، (تحفة الأشراف: 2600)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج 41 (127، 128)، سنن الدارمی/المناسک 11 (1845) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح