أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي بَكْرٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ :" أَنَّهُ خَرَجَ حَاجًّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ، فَوَلَدَتْ بِالشَّجَرَةِ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ، فَأَتَى أَبُو بَكْرٍ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنْ يَأْمُرَهَا أَنْ تَغْتَسِلَ، ثُمَّ تُهِلَّ بِالْحَجِّ، وَتَصْنَعَ مَا يَصْنَعُ النَّاسُ، إِلَّا أَنَّهَا لَا تَطُوفُ بِالْبَيْتِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوبکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ حج کے لیے نکلے، ان کے ساتھ (ان کی بیوی) اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا تھیں، ان سے مقام شجرہ (ذوالحلیفہ) میں محمد بن ابی بکر کی ولادت ہوئی، ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئے، اور آپ کو اس کی اطلاع دی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ اسماء سے کہیں کہ ”وہ غسل کریں، پھر تلبیہ پکاریں اور احرام باندھیں، اور وہ تمام کام انجام دیں، جو دوسرے لوگ کریں البتہ وہ بیت اللہ کا طواف نہ کریں“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2912]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن النسائی/الحج 26 (2665)، (تحفة الأشراف: 6617) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: طواف ایک ایسی عبادت ہے جس میں طہارت شرط ہے، اسی وجہ سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسماء رضی اللہ عنہا کو طواف سے روک دیا۔
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح