بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: وضو کے بعد ستر پر چھینٹے مارنے کا بیان۔
Sunan Ibn Majah
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: طہارت اور اس کے احکام و مسائل باب: وضو کے بعد ستر پر چھینٹے مارنے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 4
حدیث نمبر: 461 سنن ابن ماجہ
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، مَنْصُورٌ ، مُجَاهِدٌ ، الْحَكَمِ بْنِ سُفْيَانَ الثَّقَفِيِّ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، قَالَ، قَالَ مَنْصُورٌ حَدَّثَنَا مُجَاهِدٌ ، عَنْ الْحَكَمِ بْنِ سُفْيَانَ الثَّقَفِيِّ ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" تَوَضَّأَ ثُمَّ أَخَذَ كَفًّا مِنْ مَاءٍ فَنَضَحَ بِهِ فَرْجَهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
حکم بن سفیان ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے وضو کیا، پھر ایک چلو پانی لے کر شرمگاہ پر چھینٹا مارا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 461]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن ابی داود/الطہارة 64 (166)، سنن النسائی/الطہارة 102 (134)، (تحفة الأشراف: 3420)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/ 410، 4/179، 212، 5/408، 409) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: تاکہ ستر (شرمگاہ) پر پیشاب کا خطرہ ہونے کا وسوسہ ختم ہو جائے، یہ وسوسہ دور کرنے کی ایک اچھی تدبیر ہے جسے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے امت کو سکھایا ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 462 سنن ابن ماجہ
إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ ، حَسَّانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، عُقَيْلٍ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، أُسَامَةُ بْنُ زَيْدِ ، زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ ، حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدِ ، عَنْ أَبِيِه زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَلَّمَنِي جِبْرَائِيلُ الْوُضُوءَ، وَأَمَرَنِي أَنْ أَنْضَحَ تَحْتَ ثَوْبِي لِمَا يَخْرُجُ مِنَ الْبَوْلِ بَعْدَ الْوُضُوءِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جبرائیل (علیہ السلام) نے مجھے وضو سکھایا، اور مجھے اپنے کپڑے کے نیچے (شرمگاہ) پر چھینٹے مارنے کا حکم دیا کہ کہیں وضو کے بعد پیشاب کا کوئی قطرہ نہ آ گیا ہو (تاکہ چھینٹے مارنے سے یہ شبہ زائل ہو جائے) ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 462]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3745، ومصباح الزجاجة: 189)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/161) (حسن)» ‏‏‏‏ (سند میں ابن لہیعہ ضعیف ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، لیکن حدیث شواہد کی بناء پر حسن ہے لیکن «وأمرني أن أنضح تحت ثوبي» کا لفظ ضعیف ہے اس کا کوئی شاہد نہیں ہے، البتہ فعل نبوی سے یہ ثابت ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 1341، و سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 841، صحیح أبی داود: 159)
وضاحت
۱؎: غرض یہ ہے کہ پانی چھڑکنے سے پیشاب کا قطرہ رک جائے گا اور نہ نکلے گا اور وجہ اس کی یہ ہے کہ احلیل مرد کا عورت کی طرح ہے، اور گائے وغیرہ کی چھاتی کی طرح ہے، جب پستان میں دودھ کو روکنا منظور ہوتا ہے، تو پانی چھڑک دیتے ہیں، اسی طرح شرم گاہ پر چھڑکنے سے قطرہ رک جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني
حسن دون الأمر
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
ابن لهيعة عنعن
وقال البوصيري: ’’ ھذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة‘‘ ورواه رشدين عن عقيل عن الزهري به وحديث أبي داود (السنن: 166) يُغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 394
الحكم: حسن دون الأمر
حدیث نمبر: 463 سنن ابن ماجہ
الْحُسَيْنُ بْنُ سَلَمَةَ الْيَحْمِدِيُّ ، سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ ، الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْهَاشِمِيُّ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ سَلَمَةَ الْيَحْمِدِيُّ ، حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْهَاشِمِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا تَوَضَّأْتَ فَانْتَضِحْ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب تم وضو کرو تو (شرمگاہ پر) چھینٹے مار لیا کرو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 463]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن الترمذی/الطہارة 38، (50)، (تحفة الأشراف: 13644) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس حدیث کی سند میں حسن بن علی الہاشمی ضعیف ہیں، لیکن نبی اکرم صلى الله عليه و آله وسلم کے فعل سے یہ عمل ثابت ہے، ملاحظہ ہو اگلی حدیث (464) نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 1312، وسلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 2/519 - 520)۔
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (50)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 394
الحكم: ضعيف
حدیث نمبر: 464 سنن ابن ماجہ
مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ ، قَيْسٌ ، ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا قَيْسٌ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ:" تَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَضَحَ فَرْجَهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وضو کیا، اور اپنی شرمگاہ پہ چھینٹ ماری۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 464]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ ابن ما جہ، (تحفة الأشراف: 2940، ومصباح الزجاجة: 190) (صحیح)» ‏‏‏‏ (اس حدیث کی سند میں قیس بن ربیع اور محمد بن عبد الرحمن بن أبی لیلیٰ دونوں ضعیف ہیں، لیکن شواہد اور متابعات کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح