إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ ، حَسَّانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، عُقَيْلٍ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، أُسَامَةُ بْنُ زَيْدِ ، زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ ، حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدِ ، عَنْ أَبِيِه زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَلَّمَنِي جِبْرَائِيلُ الْوُضُوءَ، وَأَمَرَنِي أَنْ أَنْضَحَ تَحْتَ ثَوْبِي لِمَا يَخْرُجُ مِنَ الْبَوْلِ بَعْدَ الْوُضُوءِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جبرائیل (علیہ السلام) نے مجھے وضو سکھایا، اور مجھے اپنے کپڑے کے نیچے (شرمگاہ) پر چھینٹے مارنے کا حکم دیا کہ کہیں وضو کے بعد پیشاب کا کوئی قطرہ نہ آ گیا ہو (تاکہ چھینٹے مارنے سے یہ شبہ زائل ہو جائے)“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 462]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3745، ومصباح الزجاجة: 189)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/161) (حسن)» (سند میں ابن لہیعہ ضعیف ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، لیکن حدیث شواہد کی بناء پر حسن ہے لیکن «وأمرني أن أنضح تحت ثوبي» کا لفظ ضعیف ہے اس کا کوئی شاہد نہیں ہے، البتہ فعل نبوی سے یہ ثابت ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 1341، و سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 841، صحیح أبی داود: 159)
وضاحت
۱؎: غرض یہ ہے کہ پانی چھڑکنے سے پیشاب کا قطرہ رک جائے گا اور نہ نکلے گا اور وجہ اس کی یہ ہے کہ احلیل مرد کا عورت کی طرح ہے، اور گائے وغیرہ کی چھاتی کی طرح ہے، جب پستان میں دودھ کو روکنا منظور ہوتا ہے، تو پانی چھڑک دیتے ہیں، اسی طرح شرم گاہ پر چھڑکنے سے قطرہ رک جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني
حسن دون الأمر
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
ابن لهيعة عنعن
وقال البوصيري: ’’ ھذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة‘‘ ورواه رشدين عن عقيل عن الزهري به وحديث أبي داود (السنن: 166) يُغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 394
الحكم: حسن دون الأمر