أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، مَنْصُورٌ ، مُجَاهِدٌ ، الْحَكَمِ بْنِ سُفْيَانَ الثَّقَفِيِّ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، قَالَ، قَالَ مَنْصُورٌ حَدَّثَنَا مُجَاهِدٌ ، عَنْ الْحَكَمِ بْنِ سُفْيَانَ الثَّقَفِيِّ ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" تَوَضَّأَ ثُمَّ أَخَذَ كَفًّا مِنْ مَاءٍ فَنَضَحَ بِهِ فَرْجَهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
حکم بن سفیان ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے وضو کیا، پھر ایک چلو پانی لے کر شرمگاہ پر چھینٹا مارا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 461]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الطہارة 64 (166)، سنن النسائی/الطہارة 102 (134)، (تحفة الأشراف: 3420)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/ 410، 4/179، 212، 5/408، 409) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: تاکہ ستر (شرمگاہ) پر پیشاب کا خطرہ ہونے کا وسوسہ ختم ہو جائے، یہ وسوسہ دور کرنے کی ایک اچھی تدبیر ہے جسے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے امت کو سکھایا ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح