بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: وضو میں کسی سے مدد لینے کا بیان جو اس پر پانی ڈالے۔
Sunan Ibn Majah
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: طہارت اور اس کے احکام و مسائل باب: وضو میں کسی سے مدد لینے کا بیان جو اس پر پانی ڈالے۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 4
حدیث نمبر: 389 سنن ابن ماجہ
هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، الْأَعْمَشُ ، مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ ، مَسْرُوقٍ ، الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ:" خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبَعْضِ حَاجَتِهِ، فَلَمَّا رَجَعَ تَلَقَّيْتُهُ بِالْإِدَاوَةِ، فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ فَغَسَلَ يَدَيْهِ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ، ثُمَّ ذَهَبَ يَغْسِلُ ذِرَاعَيْهِ، فَضَاقَتِ الْجُبَّةُ، فَأَخْرَجَهُمَا مِنْ تَحْتِ الْجُبَّةِ فَغَسَلَهُمَا، وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، ثُمَّ صَلَّى بِنَا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی کسی حاجت کے لیے تشریف لے گئے، جب آپ واپس ہوئے تو میں لوٹے میں پانی لے کر آپ سے ملا، میں نے پانی ڈالا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ دھوئے، پھر اپنا چہرہ دھویا، پھر اپنے دونوں بازو دھونے لگے تو جبہ کی آستین تنگ پڑ گئی، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے ہاتھ جبہ کے نیچے سے نکال لیے، انہیں دھویا، اور اپنے موزوں پر مسح کیا، پھر ہمیں نماز پڑھائی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 389]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الصلاة 7 (363)، صحیح مسلم/الطہارة 23 (274)، سنن النسائی/الطہارة 66 (82)، (تحفة الأشراف: 11528)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطہارة 59 (149)، موطا امام مالک/الطہارة 8 (41)، حم4/255، سنن الدارمی/الطہارة 41 (740) (صحیح) (یہ مکرر ہے، ملاحظہ ہو: 545)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
بخاري ومسلم
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 390 سنن ابن ماجہ
مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ ، شَرِيكٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ ، قَالَتْ:" أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِيضَأَةٍ، فَقَالَ:" اسْكُبِي، فَسَكَبْتُ فَغَسَلَ وَجْهَهُ، وَذِرَاعَيْهِ، وَأَخَذَ مَاءً جَدِيدًا فَمَسَحَ بِهِ رَأْسَهُ مُقَدَّمَهُ، وَمُؤَخَّرَهُ، وَغَسَلَ قَدَمَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس وضو کا برتن لے کر آئی، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: پانی ڈالو ۱؎، میں نے پانی ڈالا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا چہرہ اور اپنے دونوں بازو دھوئے اور نیا پانی لے کر سر کے اگلے اور پچھلے حصے کا مسح کیا، اور اپنے دونوں پاؤں تین تین بار دھوئے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 390]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الطہارة 50 (127)، سنن الترمذی/الطہارة 25 (33)، (تحفة الأشراف: 15837)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/461)، سنن الدارمی/الطہارة 24 (717) (حسن)» ‏‏‏‏ (سند میں شریک القاضی سئ الحفظ ضعیف راوی ہیں، اس لئے «مَائً جَدِيداً» کا لفظ ضعیف ہے، ملاحظہ ہو: صحیح أبی داود: 117- 122)
وضاحت
۱؎: اوپر کی ان تینوں احادیث سے معلوم ہوا کہ وضو میں تعاون لینا درست ہے، اس میں کوئی کراہت نہیں۔
قال الشيخ الألباني
حسن دون الماء الجديد
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (128،130)
ابن عقيل ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 392
الحكم: حسن دون الماء الجديد
حدیث نمبر: 391 سنن ابن ماجہ
بِشْرُ بْنُ آدَمَ ، زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، الْوَلِيدُ بْنُ عُقْبَةَ ، حُذَيْفَةُ بْنُ أَبِي حُذَيْفَةَ الْأَزْدِيُّ ، صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ عُقْبَةَ ، حَدَّثَنِي حُذَيْفَةُ بْنُ أَبِي حُذَيْفَةَ الْأَزْدِيُّ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ ، قَالَ:" صَبَبْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَاءَ فِي السَّفَرِ، وَالْحَضَرِ فِي الْوُضُوءِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سفر و حضر میں کئی بار وضو کرایا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 391]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4956، ومصباح الزجاجة: 161) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس حدیث کی سند میں ولید بن عقبہ مجہول راوی ہیں)
وضاحت
۱؎: وضو کرانے کا مطلب یہ ہے کہ وہ پانی ڈالتے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وضو کرتے۔
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
الوليد بن عقبة: مجهول (تقريب: 7444)
وشيخه حذيفة بن أبي حذيفة: مجهول الحال
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 392
الحكم: ضعيف
حدیث نمبر: 392 سنن ابن ماجہ
كُرْدُوسُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْوَاسِطِيُّ ، عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ رَوْحٍ ، رَوْحُ بْنُ عَنْبَسَةَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ ، عَنْبَسَةَ بْنِ سَعِيدٍ ، أُمِّ عَيَّاشٍ
حَدَّثَنَا كُرْدُوسُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ رَوْحٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي رَوْحُ بْنُ عَنْبَسَةَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ عَنْ أَبِيهِ عَنْبَسَةَ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ أَبِيهِ أُمِّ عَيَّاشٍ ، وَكَانَتْ أَمَةً لِرُقَيَّةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ:" كُنْتُ أُوَضِئُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا قَائِمَةٌ وَهُوَ قَاعِدٌ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
‏‏‏‏ رقیہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی لونڈی ام عیاش رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو وضو کراتی تھی، میں کھڑی ہوتی تھی اور آپ بیٹھے ہوتے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 392]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 18340، ومصباح الزجاجة: 162) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (یہ سند ضعیف ہے اس لئے کہ عبد الکریم بن روح ضعیف، اور روح بن عنبسہ مجہول راوی ہیں)
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
عبدالكريم بن روح: ضعيف (تقريب: 4150) و أبوه روح بن عنبسة: مجهول (تقريب: 1964) وقال البوصيري: ’’ھذا إسناد مجهول ‘‘
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 392
الحكم: ضعيف