مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ ، شَرِيكٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ ، قَالَتْ:" أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِيضَأَةٍ، فَقَالَ:" اسْكُبِي، فَسَكَبْتُ فَغَسَلَ وَجْهَهُ، وَذِرَاعَيْهِ، وَأَخَذَ مَاءً جَدِيدًا فَمَسَحَ بِهِ رَأْسَهُ مُقَدَّمَهُ، وَمُؤَخَّرَهُ، وَغَسَلَ قَدَمَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس وضو کا برتن لے کر آئی، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”پانی ڈالو“ ۱؎، میں نے پانی ڈالا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا چہرہ اور اپنے دونوں بازو دھوئے اور نیا پانی لے کر سر کے اگلے اور پچھلے حصے کا مسح کیا، اور اپنے دونوں پاؤں تین تین بار دھوئے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 390]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الطہارة 50 (127)، سنن الترمذی/الطہارة 25 (33)، (تحفة الأشراف: 15837)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/461)، سنن الدارمی/الطہارة 24 (717) (حسن)» (سند میں شریک القاضی سئ الحفظ ضعیف راوی ہیں، اس لئے «مَائً جَدِيداً» کا لفظ ضعیف ہے، ملاحظہ ہو: صحیح أبی داود: 117- 122)
وضاحت
۱؎: اوپر کی ان تینوں احادیث سے معلوم ہوا کہ وضو میں تعاون لینا درست ہے، اس میں کوئی کراہت نہیں۔
قال الشيخ الألباني
حسن دون الماء الجديد
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (128،130)
ابن عقيل ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 392
الحكم: حسن دون الماء الجديد