بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
کوئی آدمی ایسے شخص کے لئے وصیت کرے جو غائب ہو
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی وصیت کے مسائل کوئی آدمی ایسے شخص کے لئے وصیت کرے جو غائب ہو
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 4
حدیث نمبر: 3275 سنن دارمی
أَبُو النُّعْمَانِ ، هُشَيْمٌ ، مَنْصُورٌ ، الْحَسَنِ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَنْبَأَنَا مَنْصُورٌ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: "إِذَا أَوْصَى الرَّجُلُ إِلَى الرَّجُلِ وَهُوَ غَائِبٌ، فَلْيَقْبَلْ وَصِيَّتَهُ، وَإِنْ كَانَ حَاضِرًا، فَهُوَ بِالْخِيَارِ: إِنْ شَاءَ، قَبِلَ، وَإِنْ شَاء، َتَرَكَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
حسن رحمہ اللہ کہتے تھے: کوئی آدمی کسی ایسے شخص کے لئے وصیت کرے جو غائب ہو تو اس کو وہ وصیت قبول کر لینی چاہیے، اور اگر وہ (موصی الیہ) موجود ہو تو اسے اختیار ہے چاہےتو قبول کر لے اور اگر چاہے تو چھوڑ دے۔ [سنن دارمي/من كتاب الوصايا/حدیث: 3275]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى الحسن، [مكتبه الشامله نمبر: 3286] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 10998] ۔ ابوالنعمان: محمد بن الفضل ہیں۔
الحكم: إسناده صحيح إلى الحسن
حدیث نمبر: 3276 سنن دارمی
حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، قَالَ: سَأَلْتُ الْحَسَنَ، وَمُحَمَّدًا عَنِ"الرَّجُلِ يُوصِي إِلَى الرَّجُلِ، قَالَا: نَخْتَارُ أَنْ يَقْبَلَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ایوب (السختیانی) سے مروی ہے کہ میں نے حسن اور محمد رحمہما اللہ سے پوچھا: کوئی آدمی کسی کے لئے وصیت کرے تو؟ دونوں نے کہا: اس کو وصیت قبول کر لینی چاہیے۔ [سنن دارمي/من كتاب الوصايا/حدیث: 3276]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3287] »
اس اثر کی سند صحیح ہے، لیکن کہیں اور یہ روایت نہیں ملی، اس کے ہم معنی [ابن أبى شيبه 10957] میں ہے۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3277 سنن دارمی
مُحَمَّدُ بْنُ أَسْعَدَ ، أَبُو بَكْرٍ ، هِشَامٍ ، الْحَسَنِ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَسْعَدَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: "إِذَا أَوْصَى الرَّجُلُ إِلَى الرَّجُلِ وَهُوَ غَائِبٌ، فَإِذَا قَدِمَ فَإِنْ شَاءَ، قَبِلَ، فَإِذَا قَبِلَ، لَمْ يَكُنْ لَهُ أَنْ يَرُدَّ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
حسن رحمہ اللہ نے کہا: کوئی آدمی کسی غائب آدمی کے لئے وصیت کرے اور وہ اسے قبول کر لے تو پھر اسے رد کرنے کا اختیار نہیں ہو گا۔ [سنن دارمي/من كتاب الوصايا/حدیث: 3277]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده لين من أجل محمد بن أسعد - أو سعيد - التغلبي، [مكتبه الشامله نمبر: 3288] »
محمد بن اسعد یا سعید تغلبی کی وجہ سے اس اثر کی سند میں کمزوری ہے، لیکن ان کا متابع اور شاہد موجود ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 10998 بسند حسن]
الحكم: إسناده لين من أجل محمد بن أسعد - أو سعيد - التغلبي
حدیث نمبر: 3278 سنن دارمی
الْوَضَّاحُ بْنُ يَحْيَى ، أَبُو بَكْرٍ ، هِشَامٍ ، الْحَسَنِ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا الْوَضَّاحُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: "إِذَا أَوْصَى الرَّجُلُ إِلَى الرَّجُلِ، فَعُرِضَتْ عَلَيْهِ الْوَصِيَّةُ، وَكَانَ غَائِبًا فَقَبِلَ، لَمْ يَكُنْ لَهُ أَنْ يَرْجِعَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
حسن رحمہ اللہ نے کہا: کوئی آدمی جب کسی کے لئے وصیت کرے اور وہ موجود نہ ہو پھر وہ وصیت اس کے لئے پیش کی جائے جس کو (موصی الیہ) قبول کر لے تو وصیت کرنے والے کو رجوع کرنے کا اختیار نہ ہو گا۔ [سنن دارمي/من كتاب الوصايا/حدیث: 3278]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «الوضاح بن يحيى سيئ الحفظ ولكنه متابع عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 3289] »
اس اثر کی سند میں وضاح بن یحییٰ سئی الحفظ ہیں، لیکن اوپر اس معنی کے شواہد گذر چکے ہیں۔
وضاحت
(تشریح احادیث 3274 سے 3278)
جس شخص کو وصیت کی جائے اس کو قبول یا رد کرنے کا اختیار ہے، لیکن جب قبول کر لے تو پھر وصیت کرنے والا رجوع نہیں کر سکتا، کیوں کہ یہ دے کر پھر لوٹانے کے زمرے میں آئے گا جس کے لئے فرمانِ نبوی ہے: «اَلْعَائِدُ فِيْ هِبَتِهِ كَالْكَلْبِ يَعُوْدُ فِيْ قَيْئِهِ. (وقانا اللّٰه منها)» ۔
الحكم: الوضاح بن يحيى سيئ الحفظ ولكنه متابع عليه