بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 3278 — کوئی آدمی ایسے شخص کے لئے وصیت کرے جو غائب ہو
کتب سنن دارمی وصیت کے مسائل کوئی آدمی ایسے شخص کے لئے وصیت کرے جو غائب ہو حدیث 3278
حدیث نمبر: 3278 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
الْوَضَّاحُ بْنُ يَحْيَى ، أَبُو بَكْرٍ ، هِشَامٍ ، الْحَسَنِ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا الْوَضَّاحُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: "إِذَا أَوْصَى الرَّجُلُ إِلَى الرَّجُلِ، فَعُرِضَتْ عَلَيْهِ الْوَصِيَّةُ، وَكَانَ غَائِبًا فَقَبِلَ، لَمْ يَكُنْ لَهُ أَنْ يَرْجِعَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
حسن رحمہ اللہ نے کہا: کوئی آدمی جب کسی کے لئے وصیت کرے اور وہ موجود نہ ہو پھر وہ وصیت اس کے لئے پیش کی جائے جس کو (موصی الیہ) قبول کر لے تو وصیت کرنے والے کو رجوع کرنے کا اختیار نہ ہو گا۔ [سنن دارمي/من كتاب الوصايا/حدیث: 3278]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «الوضاح بن يحيى سيئ الحفظ ولكنه متابع عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 3289] »
اس اثر کی سند میں وضاح بن یحییٰ سئی الحفظ ہیں، لیکن اوپر اس معنی کے شواہد گذر چکے ہیں۔
وضاحت
(تشریح احادیث 3274 سے 3278)
جس شخص کو وصیت کی جائے اس کو قبول یا رد کرنے کا اختیار ہے، لیکن جب قبول کر لے تو پھر وصیت کرنے والا رجوع نہیں کر سکتا، کیوں کہ یہ دے کر پھر لوٹانے کے زمرے میں آئے گا جس کے لئے فرمانِ نبوی ہے: «اَلْعَائِدُ فِيْ هِبَتِهِ كَالْكَلْبِ يَعُوْدُ فِيْ قَيْئِهِ. (وقانا اللّٰه منها)» ۔
الحكم: الوضاح بن يحيى سيئ الحفظ ولكنه متابع عليه
← پچھلی حدیث (3277) باب پر واپس اگلی حدیث (3279) →