مُحَمَّدُ بْنُ أَسْعَدَ ، أَبُو بَكْرٍ ، هِشَامٍ ، الْحَسَنِ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَسْعَدَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: "إِذَا أَوْصَى الرَّجُلُ إِلَى الرَّجُلِ وَهُوَ غَائِبٌ، فَإِذَا قَدِمَ فَإِنْ شَاءَ، قَبِلَ، فَإِذَا قَبِلَ، لَمْ يَكُنْ لَهُ أَنْ يَرُدَّ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
حسن رحمہ اللہ نے کہا: کوئی آدمی کسی غائب آدمی کے لئے وصیت کرے اور وہ اسے قبول کر لے تو پھر اسے رد کرنے کا اختیار نہیں ہو گا۔ [سنن دارمي/من كتاب الوصايا/حدیث: 3277]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده لين من أجل محمد بن أسعد - أو سعيد - التغلبي، [مكتبه الشامله نمبر: 3288] »
محمد بن اسعد یا سعید تغلبی کی وجہ سے اس اثر کی سند میں کمزوری ہے، لیکن ان کا متابع اور شاہد موجود ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 10998 بسند حسن]
الحكم: إسناده لين من أجل محمد بن أسعد - أو سعيد - التغلبي