بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
وصیت کی تنفیذ میں ابتداء کس وصیت سے کریں
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی وصیت کے مسائل وصیت کی تنفیذ میں ابتداء کس وصیت سے کریں
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 6
حدیث نمبر: 3259 سنن دارمی
الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ ، وُهَيْبٌ ، يُونُسَ ، الْحَسَنِ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ الْحَسَنِ:"فِي الرَّجُلِ يُوصِي بِأَشْيَاءَ وَمِنْهَا الْعِتْقُ، فَيُجَاوِزُ الثُّلُثَ، قَالَ: يُبْدَأُ بِالْعِتْقِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
حسن رحمہ اللہ سے مروی ہے: آدمی مختلف وصیتیں کرے جن میں سے غلام کو آزاد کرنا بھی ہو، اور وہ وصیت ثلث سے متجاوز ہو تو پہلے غلام آزاد کیا جائے گا۔ [سنن دارمي/من كتاب الوصايا/حدیث: 3259]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3270] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 10927] ، [ابن منصور 405]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3260 سنن دارمی
الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ ، وُهَيْبٌ ، أَيُّوبَ ، مُحَمَّدٍ
حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ: بِالْحِصَصِ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
محمد (ابن سیرین رحمہ اللہ) سے مروی ہے پہلےحصوں کی تقسیم ہو گی۔ [سنن دارمي/من كتاب الوصايا/حدیث: 3260]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3271] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 10928] ، [ابن منصور 403] ، [البيهقي 277/6]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3261 سنن دارمی
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا الْمُعَافَى، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: "مَنْ أَوْصَى أَوْ أَعْتَقَ، فَكَانَ فِي وَصِيَّتِهِ عَوْلٌ، دَخَلَ الْعَوْلُ عَلَى أَهْلِ الْعَتَاقَةِ، وَأَهْلِ الْوَصِيَّةِ". قَالَ عَطَاءٌ: إِنَّ أَهْلَ الْمَدِينَةِ غَلَبُونَا، يَبْدَءُونَ بِالْعَتَاقَةِ قَبْلُ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
عطاء سے مروی ہے کوئی آدمی وصیت کرے اور (غلام) آزاد کرے اور اس کی وصیت میں عول ہو (یعنی حصص زیادہ ہوں) تو یہ عول آزادی اور وصیت والے سب لوگوں پر ہو گا۔ عطاء نے کہا: اہل مدینہ اس مسئلہ میں ہم پر غالب آ گئے، وہ آزادی سے ابتداء کرتے ہیں۔ [سنن دارمي/من كتاب الوصايا/حدیث: 3261]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3272] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ معافیٰ: ابن عمران، اور عطاء: ابن ابی رباح ہیں۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 10934] ، [عبدالرزاق 16748] ، [البيهقي 277/6]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3262 سنن دارمی
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: قَالَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ "فِي الَّذِي يُوصِي بِعِتْقٍ، وَغَيْرِهِ فَيَزِيدُ عَلَى الثُّلُثِ، قَالَ: بِالْحِصَصِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
عمرو بن دینار نے کہا: جو آدمی آزاد کرنے کی اور دیگر کوئی اور وصیت کرے جو ثلث سے زیادہ ہو تو (ثلث میں سے ہی) حصص تقسیم ہوں گے۔ [سنن دارمي/من كتاب الوصايا/حدیث: 3262]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3273] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [عبدالرزاق 16748] ۔ ابوالنعمان: محمد بن الفضل ہیں۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3263 سنن دارمی
سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، كَثِيرِ بْنِ شِنْظِيرٍ ، الْحَسَنِ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ شِنْظِيرٍ، عَنْ الْحَسَنِ:"فِي رَجُلٍ أَوْصَى بِأَكْثَرَ مِنْ الثُّلُثِ وَفِيهِ عِتْقٌ؟ قَالَ: يُبْدَأُ بِالْعِتْقِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
حسن رحمہ اللہ نے کہا: جو آدمی تہائی مال سے زیادہ کی وصیت کرے جس میں برده (غلام) کی آزادی بھی ہو، انہوں نے کہا: آزادی مقدم ہو گی۔ [سنن دارمي/من كتاب الوصايا/حدیث: 3263]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3274] »
اس اثر کی سند صحیح ہے، اور تخریج اوپر (3261) میں گذر چکی ہے۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3264 سنن دارمی
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: "يُبْدَأُ بِالْعَتَاقَةِ قَبْلَ الْوَصِيَّةِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: آزاد کرنے کو وصیت پر مقدم رکھاجائے گا۔ [سنن دارمي/من كتاب الوصايا/حدیث: 3264]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3275] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 10931] ، [ابن منصور 397، 402] ، [البيهقي 277/6]
وضاحت
(تشریح احادیث 3258 سے 3264)
ان تمام آثار سے ثابت ہوا کہ مختلف وصایا میں عتاق (آزادی) سب پر مقدم ہوگی، اس سے اسلام میں غلام آزاد کرنے کی زبردست ترغیب ہے، اور اس کا بہت بڑا اجر و ثواب ہے۔
افریقہ میں اس وقت بھی غلامی کا دور ہے اور وہاں غلاموں کی خرید و فروخت ہوتی ہے۔
الحكم: إسناده صحيح