بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
ایک آدمی دوسرے کی مدد کرے اس کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی وراثت کے مسائل کا بیان ایک آدمی دوسرے کی مدد کرے اس کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 3065 سنن دارمی
أَبُو نُعَيْمٍ ، سُفْيَانُ ، مُطَرِّفٍ ، الشَّعْبِيِّ ، وَسُفْيَانُ ، يُونُسَ ، الْحَسَنِ
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، وَسُفْيَانُ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ الْحَسَنِ فِي الرَّجُلِ يُوَالِي الرَّجُلَ، قَالَا: "هُوَ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ". قَالَ سُفْيَانُ: وَكَذَلِكَ نَقُولُ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
یونس سے مروی ہے حسن رحمہ اللہ نے روایت کیا: کوئی آدمی کسی کی مدد کرتا ہے وہ مسلمانوں کے درمیان ہے، یعنی مسلمان اس کے وارث ہوں گے۔ سفیان نے کہا: ہم بھی یہی کہتے ہیں۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3065]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى كل من الشعبي، [مكتبه الشامله نمبر: 3075] »
اس اثر کی سند شعبی اور حسن رحمہما اللہ تک صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11631] ، [عبدالرزاق 9875] ، [ابن منصور 206]
الحكم: إسناده صحيح إلى كل من الشعبي
حدیث نمبر: 3066 سنن دارمی
أَبُو نُعَيْمٍ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ ، تَمِيمًا الدَّارِيَّ
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ تَمِيمًا الدَّارِيَّ، يَقُولُ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا السُّنَّةُ فِي الرَّجُلِ مِنْ أَهْلِ الْكُفْرِ يُسْلِمُ عَلَى يَدَيْ رَجُلٍ مِنْ الْمُسْلِمِينَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "هُوَ أَوْلَى النَّاسِ بِمَحْيَاهُ وَمَمَاتِهِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا تمیم الداری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا: یا رسول الله! اہل کفر میں سے کوئی شخص کسی مسلمان کے ہاتھ پر مسلمان ہو تو اس کا کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اس کو مسلمان کیا وہ اس کا زیادہ قریب ہے اس کی زندگی اور موت دونوں حالتوں میں۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3066]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3076] »
اس حدیث کی سند بمجموع الطرق صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري تعليقًا فى الفرائض، باب إذا أسلم على يديه] ، [أبوداؤد 2918] ، [ترمذي 2112] ، [ابن ماجه 2752] ، [أحمد 102/4] ، [أبويعلی 7165]
وضاحت
(تشریح احادیث 3054 سے 3066)
ظاہر حدیث سے یہ نکلتا ہے کہ اگر نو مسلم کا کوئی وارث نہ ہو تو اس کی میراث کا حق دار وہ شخص ہے جس نے اس کو مسلمان کیا۔
واللہ اعلم۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3067 سنن دارمی
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ السَّوَادِ، أَسْلَمَ عَلَى يَدَيْ رَجُلٍ، قَالَ: "يَعْقِلُ عَنْهُ، وَيَرِثُهُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
منصور سے مروی ہے ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے مخلوط لوگوں (اہل السداد) کے بارے میں پوچھا گیا (جہاں مسلم غیر مسلم مخلوط ہوں)، جب ان میں سے کوئی کسی مسلمان کے ہاتھ پر اسلام لائے؟ کہا: اس کی طرف سے دیت دے گا اور مسلمان کرنے والا اس کا وارث ہو گا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3067]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى إبراهيم النخعي، [مكتبه الشامله نمبر: 3077] »
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ تک اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [عبدالرزاق 9873] ، [ابن منصور 204] ، [المحلی 58/11-59]
الحكم: إسناده صحيح إلى إبراهيم النخعي