بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
کسی قوم کا مولیٰ اور بھانجا اسی قوم کا فرد ہے
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی سیر کے مسائل کسی قوم کا مولیٰ اور بھانجا اسی قوم کا فرد ہے
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 2563 سنن دارمی
أَبُو نُعَيْمٍ ، شُعْبَةُ ، لِمُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، أَنَسٌ
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: قُلْتُ لِمُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ: أَكَانَ أَنَسٌ يَذْكُرُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلنُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ: "ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ؟". قَالَ: نَعَمْ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
شعبہ نے کہا: میں نے معاویہ بن قرہ سے پوچھا: کیا سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نعمان بن مقرن کے لئے فرمایا: قوم کی بہن کا بیٹا قوم کا ہی فرد ہے۔ کہا: ہاں۔ [سنن دارمي/من كتاب السير/حدیث: 2563]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2569] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 3528] ، [مسلم 1059] ، [أبويعلی 3002] ، [ابن حبان 4501]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2564 سنن دارمی
سَعِيدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، كَثِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَوْلَى الْقَوْمِ مِنْهُمْ، وَحَلِيفُ الْقَوْمِ مِنْهُمْ، وَابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
کثیر بن عبداللہ نے اپنے والد، انہوں نے ان کے دادا سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: قوم کا مولیٰ انہیں میں سے ہے، اور قوم کا حلیف بھی انہیں میں سے ہے، اور بہن کا بیٹا بھی انہیں میں سے ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب السير/حدیث: 2564]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف كثير بن عبد الله بن عمرو بن عوف، [مكتبه الشامله نمبر: 2570] »
کثیر بن عبداللہ بن عمرو بن عوف کی وجہ سے یہ روایت ضعیف ہے، لیکن دوسری سند سے حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [طبراني 12/17، 2] ، [مجمع الزوائد 957] ، [نصب الراية 148/4] ، [تلخيص الحبير 214/4]
وضاحت
(تشریح احادیث 2562 سے 2564)
یعنی کسی قوم کا آزاد کردہ غلام اسی قوم کا فرد ہے، اور بھانجا بھی قوم کا ہی فرد۔
بخاری و مسلم شریف میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انصار کو جمع کیا اور کہا: تم میں غیر قوم کا کوئی آدمی تو نہیں ہے؟ عرض کیا کہ ہماری بہن کا بیٹا ہے، فرمایا: بھانجا تو قوم کا ہی ایک فرد ہے۔
الحكم: إسناده ضعيف لضعف كثير بن عبد الله بن عمرو بن عوف