بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مشرکین کے تحفے قبول کرنے کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی سیر کے مسائل مشرکین کے تحفے قبول کرنے کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 2530 سنن دارمی
عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ، عُمَارَةُ بْنُ زَاذَانَ ، ثَابِتٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا عُمَارَةُ بْنُ زَاذَانَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ"أَنَّ مَلِكَ ذِي يَزَنٍ أَهْدَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةً أَخَذَهَا بِثَلَاثَةٍ وَثَلَاثِينَ بَعِيرًا، أَوْ ثَلَاثٍ وَثَلَاثِينَ نَاقَةَ، فَقَبِلَهَا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ذی یزن کے بادشاہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے ایک حلہ 33 اونٹوں کے عوض یا 33 اونٹنیوں کے عوض خرید کر ہدیہ بھیجا جس کو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قبول فرما لیا۔ [سنن دارمي/من كتاب السير/حدیث: 2530]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 2536] »
اس روایت کی سند حسن ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 4034] ، [أبويعلی 3418] ، [شرح مشكل الآثار للطحاوي 4344]
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 2531 سنن دارمی
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، عَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ السَّاعِدِيِّ ، أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ السَّاعِدِيِّ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ: "بَعَثَ صَاحِبُ أَيْلَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكِتَابٍ، وَأَهْدَى لَهُ بَغْلَةً بَيْضَاءَ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَهْدَى لَهُ بُرْدًا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے کہا: ایلہ کے حاکم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے ایک خط بھیجا اور سفید خچر کا تحفہ بھیجا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی جواب میں اس کو خط لکھا اور چادر ہدیہ میں بھیجی۔ [سنن دارمي/من كتاب السير/حدیث: 2531]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2537] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1481] ، [مسلم 1392] ، [أحمد 424/5] ، [أبوداؤد 3079، وغيرهم]
وضاحت
(تشریح احادیث 2529 سے 2531)
شاہ ذی یزن اور حاکمِ ایلہ یوحنا بن روبہ کا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے تحفہ بھیجنا اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ان تحائف کو قبول کرنا ان احادیث سے ثابت ہوا۔
لہٰذا مشرکین حکام کے تحفے سربراہِ مملکت قبول کر سکتا ہے۔
الحكم: إسناده صحيح