بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
عورتوں اور بچوں کے قتل کی ممانعت کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی سیر کے مسائل عورتوں اور بچوں کے قتل کی ممانعت کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 2498 سنن دارمی
مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ هُوَ: ابْنُ عُمَرَ بْنِ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ هُوَ: ابْنُ عُمَرَ بْنِ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: وُجِدَ فِي بَعْضِ مَغَازِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ مَقْتُولَةٌ"فَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعض غزوات میں ایک عورت ملی جس کو قتل کیا گیا تھا، چنانچہ یہ دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عورتوں اور بچوں کے قتل کرنے سے منع فرما دیا۔ [سنن دارمي/من كتاب السير/حدیث: 2498]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد، [مكتبه الشامله نمبر: 2505] »
اس روایت کی سند جید اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 3014، 3015] ، [مسلم 1744] ، [أبوداؤد 2668] ، [ترمذي 1569] ، [ابن ماجه 2841] ، [أحمد 23/2، 76، 122] ، [طبراني 383/12، 13416] ، [شرح معاني الآثار 221/3]
وضاحت
(تشریح حدیث 2497)
یہ اسلام کا نظامِ رحمت اور پیغمبرِ اسلام، محسنِ انسانیت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رحمت و شفقت ہے کہ عورت کی اتنی تکریم کی کہ مدِ مقابل ہونے کے باوجود اس کے قتل سے منع فرما دیا، اسی طرح بے قصور بچوں کو قتل کرنے سے منع کیا۔
الحكم: إسناده جيد
حدیث نمبر: 2499 سنن دارمی
عَاصِمُ بْنُ يُوسُفَ ، أَبُو إِسْحَاق الْفَزَارِيُّ ، يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، الْحَسَنِ ، الْأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ
أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق الْفَزَارِيُّ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ فَظَفِرَ بِالْمُشْرِكِينَ فَأَسْرَعَ النَّاسُ فِي الْقَتْلِ حَتَّى قَتَلُوا الذُّرِّيَّةَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: "مَا بَالُ أَقْوَامٍ ذَهَبَ بِهِمْ الْقَتْلُ حَتَّى قَتَلُوا الذُّرِّيَّةَ؟ أَلا لا تُقْتَلَنَّ ذُرِّيَّةً ثَلَاثًا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا اسود بن سریع رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ایک غزوے میں نکلے اور مشرکین کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہو گئے، لوگوں نے انہیں قتل کرنے میں جلد بازی کی یہاں تک کہ ان کے بچے تک مارنے شروع کر دیئے، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس کی خبر لگی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا بات ہے، کچھ لوگوں کو قتل و غارتگری اس حد تک لے گئی کہ وہ بچوں کو بھی قتل کرنے لگے؟ خبردار بچوں کو قتل نہ کرو۔ تین بار آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ حکم دہرایا۔ بعض روایات میں «لَا تَقْتُلُنَّ» کا لفظ ہے یعنی ہرگز ہرگز بچوں کو قتل نہ کرو۔ [سنن دارمي/من كتاب السير/حدیث: 2499]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2506] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن حبان 132] ، [موارد الظمآن 1658]
وضاحت
(تشریح حدیث 2498)
ان دونوں احادیث سے عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے کی ممانعت ثابت ہوئی، حقوقِ نسواں اور بچوں کے استحصال کی دہائی دینے والے ذرا ان تعلیمات پر غور کریں۔
الحكم: إسناده صحيح