بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
رجم کرنے کا ارادہ ہو تو گڑھا کھود لیا جائے
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی حدود کے مسائل رجم کرنے کا ارادہ ہو تو گڑھا کھود لیا جائے
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 2356 سنن دارمی
مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى ، يَحْيَى بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، دَاوُدَ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "انْطَلِقُوا بِمَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ، فَارْجُمُوهُ". فَانْطَلَقْنَا بِهِ إِلَى بَقِيعِ الْغَرْقَدِ، فَوَاللَّهِ مَا أَوْثَقْنَاهُ وَلَا حَفَرْنَا لَهُ، وَلَكِنْ قَامَ فَرَمَيْنَاهُ بِالْعِظَامِ وَالْخَزَفِ وَالْجَنْدَلِ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ماعز بن مالک کو لے جاؤ اور اسے رجم کردو، چنانچہ ہم انہیں لے کر بقیع الغرقد کے پاس گئے اور قسم اللہ کی نہ ہم نے انہیں باندھا، نہ گڑھا کھودا، صرف وہ کھڑے ہوئے اور ہم نے ان پر ہڈی، ٹھیکری اور پتھر پھینک کر مارے۔ [سنن دارمي/من كتاب الاحدود/حدیث: 2356]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2365] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 1694] ، [أبويعلی 1215] ، [ابن حبان 4438]
وضاحت
(تشریح حدیث 2355)
رجم کے وقت باندھنا کسی کے نزدیک ضروری نہیں، گڑھا کھودنے میں اختلاف ہے۔
امام مالک، ابوحنیفہ اور احمد رحمہم اللہ کے نزدیک مرد، عورت کسی کے لئے گڑھا نہیں کھودنا چاہیے، قتادہ، ابوثور، ابویوسف کے نزدیک دونوں کے لئے گڑھا کھودنا چاہیے اس کی دلیل آگے آتی ہے، اور امام مالک رحمہ اللہ کے نزدیک جس کا رجم شہادت سے ثابت ہو اس کے لئے گڑھا کھودیں اور جس کا اقرار سے ہو اس کے لئے نہ کھودیں، شافعیہ کے نزدیک مرد کے لئے نہ کھودیں لیکن عورت کے باب میں تین قول ہیں: ایک یہ کہ سینے تک گڑھا کھودنا مستحب ہے تاکہ اس کا ستر نہ کھلے، دوسرے نہ مستحب ہے نہ مکروہ بلکہ حاکم کی رائے پر منحصر ہے۔
تیسرے یہ کہ گواہی کی صورت میں وہ مستحب ہے تاکہ اس کو بھاگنے کا موقع نہ ملے، (نووی مختصراً)۔
اس حدیث سے پہلے قول کی تائید ہوتی ہے کہ کسی کے لئے گڑھا نہیں کھودنا، نیز یہ کہ مرد کو کھڑے کھڑے رجم کرنا اور عورت کو بٹھا کر رجم کرنا چاہیے تاکہ اس کی بے پردگی نہ ہو۔
واللہ اعلم۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2357 سنن دارمی
أَبُو نُعَيْمٍ ، بَشِيرُ بْنُ الْمُهَاجِرِ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا بَشِيرُ بْنُ الْمُهَاجِرِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَهُ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ، فَاعْتَرَفَ عِنْدَهُ بِالزِّنَا، فَرَدَّهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ جَاءَ الرَّابِعَةَ فَاعْتَرَفَ، "فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحُفِرَ لَهُ حُفْرَةٌ فَجُعِلَ فِيهَا إِلَى صَدْرِهِ، وَأَمَرَ النَّاسَ أَنْ يَرْجُمُوهُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
عبداللہ بن بریدہ نے اپنے والد (سیدنا بریده رضی اللہ عنہ) سے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس بیٹھا تھا جب وہ شخص آیا جس کا نام ماعز بن مالک تھا، اس نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے زنا کرنے کا اعتراف کیا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کو تین بار رد کر دیا، پھر وہ چوتھی بار آیا اور اعتراف کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حکم دیا، اس کیلئے گڑھا کھودا گیا جو ان کے سینے تک تھا، اس میں انہیں اتار دیا گیا اور لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حکم دیا کہ انہیں رجم کریں، چنانچہ لوگوں نے انہیں اس طرح مار ڈالا۔ [سنن دارمي/من كتاب الاحدود/حدیث: 2357]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن من أجل بشير بن المهاجر، [مكتبه الشامله نمبر: 2366] »
اس روایت کی سند میں بشیر بن مہاجر ہیں جن کی وجہ سے یہ حدیث حسن کے درجہ میں ہے، اور اسے بھی امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ دیکھئے: [مسلم 1695] ، [أحمد 347/5] ، [طحاوي فى مشكل الآثار 182/1] ، [دارقطني 92/3، وغيرهم]
وضاحت
(تشریح حدیث 2356)
اس حدیث میں ہے کہ سیدنا ماعز رضی اللہ عنہ کے لئے گڑھا کھودا گیا تھا لیکن اوپر والی روایت اس سے قوی اور اصح ہے، اس لئے یہی قول راجح اور صحیح معلوم ہوتا ہے کہ مرد کے لئے گڑھا کھودنا ضروری نہیں۔
واللہ اعلم۔
الحكم: إسناده حسن من أجل بشير بن المهاجر