بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 2357 — رجم کرنے کا ارادہ ہو تو گڑھا کھود لیا جائے
کتب سنن دارمی حدود کے مسائل رجم کرنے کا ارادہ ہو تو گڑھا کھود لیا جائے حدیث 2357
حدیث نمبر: 2357 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَبُو نُعَيْمٍ ، بَشِيرُ بْنُ الْمُهَاجِرِ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا بَشِيرُ بْنُ الْمُهَاجِرِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَهُ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ، فَاعْتَرَفَ عِنْدَهُ بِالزِّنَا، فَرَدَّهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ جَاءَ الرَّابِعَةَ فَاعْتَرَفَ، "فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحُفِرَ لَهُ حُفْرَةٌ فَجُعِلَ فِيهَا إِلَى صَدْرِهِ، وَأَمَرَ النَّاسَ أَنْ يَرْجُمُوهُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
عبداللہ بن بریدہ نے اپنے والد (سیدنا بریده رضی اللہ عنہ) سے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس بیٹھا تھا جب وہ شخص آیا جس کا نام ماعز بن مالک تھا، اس نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے زنا کرنے کا اعتراف کیا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کو تین بار رد کر دیا، پھر وہ چوتھی بار آیا اور اعتراف کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حکم دیا، اس کیلئے گڑھا کھودا گیا جو ان کے سینے تک تھا، اس میں انہیں اتار دیا گیا اور لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حکم دیا کہ انہیں رجم کریں، چنانچہ لوگوں نے انہیں اس طرح مار ڈالا۔ [سنن دارمي/من كتاب الاحدود/حدیث: 2357]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن من أجل بشير بن المهاجر، [مكتبه الشامله نمبر: 2366] »
اس روایت کی سند میں بشیر بن مہاجر ہیں جن کی وجہ سے یہ حدیث حسن کے درجہ میں ہے، اور اسے بھی امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ دیکھئے: [مسلم 1695] ، [أحمد 347/5] ، [طحاوي فى مشكل الآثار 182/1] ، [دارقطني 92/3، وغيرهم]
وضاحت
(تشریح حدیث 2356)
اس حدیث میں ہے کہ سیدنا ماعز رضی اللہ عنہ کے لئے گڑھا کھودا گیا تھا لیکن اوپر والی روایت اس سے قوی اور اصح ہے، اس لئے یہی قول راجح اور صحیح معلوم ہوتا ہے کہ مرد کے لئے گڑھا کھودنا ضروری نہیں۔
واللہ اعلم۔
الحكم: إسناده حسن من أجل بشير بن المهاجر
← پچھلی حدیث (2356) باب پر واپس اگلی حدیث (2358) →