بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
اس کا بیان کہ لونڈی کی آزادی اس کا مہر ہو سکتا ہے
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی نکاح کے مسائل اس کا بیان کہ لونڈی کی آزادی اس کا مہر ہو سکتا ہے
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 2279 سنن دارمی
مُسَدَّدٌ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ، عَنْ أَنَسٍ:"أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْتَقَ صَفِيَّةَ وَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیدہ صفیہ بنت حی رضی اللہ عنہا کو آزاد کیا اور ان کی آزادی ہی کو مہر قرار دیا۔ [سنن دارمي/من كتاب النكاح/حدیث: 2279]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح والحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 2288] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 2228] ، [مسلم 1365] ، [أبوداؤد 2054] ، [ترمذي 1115] ، [نسائي 3342] ، [ابن ماجه 1957] ، [أبويعلی 3050] ، [ابن حبان 4061]
الحكم: إسناده صحيح والحديث متفق عليه
حدیث نمبر: 2280 سنن دارمی
أَبُو النُّعْمَانِ ، أَبُو عَوَانَةَ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ:"أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْتَقَ صَفِيَّةَ وَتَزَوَّجَهَا وَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ام المومنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کو پہلے آزاد کیا پھر ان سے نکاح کیا اور ان کی آزادی کو ہی ان کا مہر قرار دیا۔ [سنن دارمي/من كتاب النكاح/حدیث: 2280]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح وهو مكرر سابقه، [مكتبه الشامله نمبر: 2289] »
اس روایت کی تخریج اوپر گذر چکی ہے۔
وضاحت
(تشریح احادیث 2278 سے 2280)
اُم المومنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا خیبر میں یہودیوں کے سردار حی بن اخطب کی بیٹی تھیں، جب خیبر فتح ہوا تو قیدیوں میں یہ بھی تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے صحابی سیدنا دحیہ الکلبی رضی اللہ عنہ سے کہا: جاؤ تم کوئی لونڈی اپنے لئے پسند کر لو، وہ گئے اور سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کو پسند کر لیا۔
ایک اور صحابی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! یہ یہودیوں کے سردار کی بیٹی حضرت ہارون علیہ السلام کی اولاد سے شرافت و نجابت والی ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہی کے لئے مناسب ہیں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیدنا دحیہ الکلبی رضی اللہ عنہ کو بلایا اور ان سے کہا: تم دوسری لونڈی پسند کرو، اور پھر واپسی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں آزاد کر کے نکاح کر لیا۔
سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا نے راستے میں دلہن بنا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے پیش کیا اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کی آزادی ہی کو ان کا مہر قرار دیا۔
الحكم: إسناده صحيح وهو مكرر سابقه