بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 2280 — اس کا بیان کہ لونڈی کی آزادی اس کا مہر ہو سکتا ہے
کتب سنن دارمی نکاح کے مسائل اس کا بیان کہ لونڈی کی آزادی اس کا مہر ہو سکتا ہے حدیث 2280
حدیث نمبر: 2280 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَبُو النُّعْمَانِ ، أَبُو عَوَانَةَ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ:"أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْتَقَ صَفِيَّةَ وَتَزَوَّجَهَا وَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ام المومنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کو پہلے آزاد کیا پھر ان سے نکاح کیا اور ان کی آزادی کو ہی ان کا مہر قرار دیا۔ [سنن دارمي/من كتاب النكاح/حدیث: 2280]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح وهو مكرر سابقه، [مكتبه الشامله نمبر: 2289] »
اس روایت کی تخریج اوپر گذر چکی ہے۔
وضاحت
(تشریح احادیث 2278 سے 2280)
اُم المومنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا خیبر میں یہودیوں کے سردار حی بن اخطب کی بیٹی تھیں، جب خیبر فتح ہوا تو قیدیوں میں یہ بھی تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے صحابی سیدنا دحیہ الکلبی رضی اللہ عنہ سے کہا: جاؤ تم کوئی لونڈی اپنے لئے پسند کر لو، وہ گئے اور سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کو پسند کر لیا۔
ایک اور صحابی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! یہ یہودیوں کے سردار کی بیٹی حضرت ہارون علیہ السلام کی اولاد سے شرافت و نجابت والی ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہی کے لئے مناسب ہیں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیدنا دحیہ الکلبی رضی اللہ عنہ کو بلایا اور ان سے کہا: تم دوسری لونڈی پسند کرو، اور پھر واپسی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں آزاد کر کے نکاح کر لیا۔
سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا نے راستے میں دلہن بنا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے پیش کیا اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کی آزادی ہی کو ان کا مہر قرار دیا۔
الحكم: إسناده صحيح وهو مكرر سابقه
← پچھلی حدیث (2279) باب پر واپس اگلی حدیث (2281) →