بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
درندوں کی کھال اوڑھنے (استعمال کرنے) کی ممانعت کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی قربانی کے بیان میں درندوں کی کھال اوڑھنے (استعمال کرنے) کی ممانعت کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 2022 سنن دارمی
يَعْمَرُ بْنُ بِشْرٍ ، ابْنِ الْمُبَارَكِ ، سَعِيدٍ ، قَتَادَةَ ، أَبِي الْمَلِيحِ ، أَبِيهِ
أَخْبَرَنَا يَعْمَرُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "نَهَى عَنْ جُلُودِ السِّبَاعِ أَنْ تُفْتَرَشَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوملیح نے اپنے والد سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے درندوں کی کھالوں کو بچھانے سے منع فرمایا۔ [سنن دارمي/من كتاب الاضاحي/حدیث: 2022]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2026] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 4132] ، [ترمذي 1771] ، [نسائي 4264] ، [أحمد 74/5، وغيرهم مرسلًا ومرفوعًا]
وضاحت
(تشریح حدیث 2021)
جب درندوں کی کھال کو بچھانا ممنوع ہوا تو پہننا بدرجۂ اولی ممنوع ہوگا۔
نسائی شریف میں پہننے اور بچھانے دونوں کی ممانعت ہے۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2023 سنن دارمی
مُسَدَّدٌ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، سَعِيدٍ ، قَتَادَةَ ، أَبِي الْمَلِيحِ ، أَبِيهِ
أَخْبَرَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدٍ عن قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوملیح نے اپنے والد سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اسی طرح روایت کیا۔ [سنن دارمي/من كتاب الاضاحي/حدیث: 2023]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2027] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 4132، وغيره من المراجع المذكورة آنفا]
وضاحت
(تشریح حدیث 2022)
ان روایات سے درندوں کی کھال بچھانے اور پہننے کی ممانعت ثابت ہوئی کیونکہ دنیا داروں میں ان کا بچھانا اور پہننا باعثِ نخوت و تکبر ہوتا ہے، (وحیدی)۔
ابوداؤد کی ایک روایت (4128) میں ہے: جن لوگوں کے پاس چیتے کی کھال ہو ان سے فرشتے جدا ہو جاتے ہیں۔
اس لئے شیر چیتے کی کھالوں پر بیٹھنا جائز نہیں۔
الحكم: إسناده صحيح