بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورج گرہن کے وقت کی نماز کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی نماز کے مسائل سورج گرہن کے وقت کی نماز کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 8
حدیث نمبر: 1564 سنن دارمی
يَعْلَى ، إِسْمَاعِيل ، قَيْسٍ ، أَبِي مَسْعُودٍ
حَدَّثَنَا يَعْلَى، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:"إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَيْسَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ مِنْ النَّاسِ، وَلَكِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا، فَقُومُوا، فَصَلُّوا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بیشک سورج اور چاند کو کسی کی موت کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا ہے، یہ تو الله کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، لہٰذا جب تم ایسا دیکھو تو کھڑے ہو جاؤ اور نماز پڑھو۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1564]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1566] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1041] ، [مسلم 911] ، [نسائي 1461] ، [ابن ماجه 1261] ، [الحميدي 460]
وضاحت
(تشریح حدیث 1563)
دورِ جاہلیت میں لوگ یہ اعتقاد رکھتے تھے کہ گرہن سے زمین پر موت یا نقصان کا حادثہ ہوتا ہے، اتفاق ایسا ہوا کہ ربیع الاوّل یا ماہِ رمضان 10ھ میں سورج گرہن ہوا اور اسی دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے فرزند ابراہیم کا انتقال ہوا تو لوگوں نے کہا کہ یہ گرہن ابراہیم کی موت کی وجہ سے ہے۔
رسولِ ہدیٰ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خطبہ دیا اور اس عقیدے کی بیخ کنی فرما دی کہ ستاروں کا کچھ اثر انسانی زندگی پر نہیں ہے۔
آج بھی کوئی مسلمان ایسا عقیدہ رکھے تو وہ سراسر اسلامی عقیدے کے خلاف ہے۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1565 سنن دارمی
عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَدِينِيُّ ، وَمُسَدَّدٌ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدٍ ، حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ ، طَاوُسٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَدِينِيُّ، وَمُسَدَّدٌ قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدٍ، حَدَّثَنِي حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "صَلَّى فِي كُسُوفٍ ثَمَانَ رَكَعَاتٍ فِي أَرْبَعِ سَجَدَاتٍ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صلاة الكسوف میں آٹھ رکوع اور چار سجدے کئے۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1565]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لانقطاعه، [مكتبه الشامله نمبر: 1567] »
اس روایت کی سند میں انقطاع ہے، لیکن صحیح سند سے بھی مروی ہے۔ دیکھئے: [مسلم 908] ، [أبوداؤد 1183] ، [ترمذي 560] ، [نسائي 1467] ، [أحمد 225/1] ، [الدارقطني 94/2]
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه
حدیث نمبر: 1566 سنن دارمی
أَبُو النُّعْمَانِ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّ يَهُودِيَّةً دَخَلَتْ عَلَيْهَا، فَقَالَتْ: أَعَاذَكِ اللَّهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، فَلَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَتْهُ: أَيُعَذَّبُ النَّاسُ فِي قُبُورِهِمْ؟ قَالَ:"عَائِذًا بِاللَّهِ". قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"رَكِبَ يَوْمًا مَرْكَبًا فَخَسَفَتْ الشَّمْسُ، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَزَلَ، ثُمَّ عَمِدَ إِلَى مَقَامِهِ الَّذِي كَانَ يُصَلِّي فِيهِ، قَامَ النَّاسُ خَلْفَهُ فَأَطَالَ الْقِيَامَ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ، وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ قَامَ فَفَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ تَجَلَّتْ الشَّمْسُ". فَدَخَلَ عَلَيَّ فَقَالَ:"إِنِّي أُرَاكُمْ تُفْتَنُونَ فِي قُبُورِكُمْ كَفِتْنَةِ الدَّجَّالِ". سَمِعْتُهُ يَقُولُ: "اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ النَّارِ"..
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک یہودی عورت ان کے پاس آئی اور کہا کہ آپ کو اللہ تعالیٰ عذاب قبر سے بچائے، پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے تو میں نے عرض کیا: کیا لوگوں کو ان کی قبروں میں عذاب دیا جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (اس سے) اللہ کی پناہ مانگی، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سواری پر بیٹھے اور سورج کو گرہن لگ گیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آئے، سواری سے اترے اور اس مقام تک پہنچے جہاں امامت کرتے تھے، لوگ بھی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دیر تک لمبا قیام کیا، پھر رکوع کیا اور اس میں بھی دیر کی، پھر رکوع سے اٹھے تو دوبارہ لمبا قیام کیا جو پہلے قیام سے کچھ کم تھا، پھر رکوع کیا اور لمبا رکوع کیا، لیکن پہلے رکوع سے کم تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو سجدے کئے پھر کھڑے ہوئے اور ایسے ہی دوسری رکعت پڑھی، پھر سورج صاف ہو گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا: میں دیکھ رہا ہوں کہ تم اپنی قبروں میں دجال کے فتنے کی طرح فتنے میں مبتلا کئے جاؤ گے، میں نے سنا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے تھے: اے اللہ! میں قبر کے عذاب سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ اے اللہ! میں جہنم کے عذاب سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1566]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1568] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1049، 1055] ، [مسلم 903] ، [نسائي 1474] ، [أبويعلی 4841] ، [ابن حبان 2840] ، [مسند الحميدي 179، 180]
وضاحت
(تشریح احادیث 1564 سے 1566)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا فرمان کہ تم قبر میں فتنے میں مبتلا کئے جاؤگے، اور عذابِ قبر سے پناہ مانگنا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ قبر میں لوگ عذاب میں مبتلا کئے جائیں گے، اور یہی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سوال کا جواب ہے۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1567 سنن دارمی
أَبُو يَعْقُوبَ يُوسُفُ الْبُوَيْطِيُّ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِدْرِيسَ هُوَ الشَّافِعِيُّ ، مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا أَبُو يَعْقُوبَ يُوسُفُ الْبُوَيْطِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِدْرِيسَ هُوَ الشَّافِعِيُّ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: خَسَفَتْ الشَّمْسُ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَكَى ابْنُ عَبَّاسٍ: أَنَّ صَلَاتَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ خَطَبَهُمْ، فَقَالَ:"إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ، وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ، فَافْزَعُوا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: سورج گرہن ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو رکعت نماز پڑھی، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ہر رکعت میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو رکوع کئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: بیشک شمس و قمر اللہ کی (قدرت کی) نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں جو کسی کی موت و زندگی کی وجہ سے بےنور نہیں ہوتی ہیں (یعنی گرہن نہیں لگتا ہے) لہٰذا اب تم ایسا (گرہن) دیکھو تو فوراً نماز کی طرف لپکو۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1567]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1569] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1046، 1052] ، [مسلم 907] ، [مالك 2] ، [أبوداؤد 1171] ، [نسائي 1468] ، [ابن حبان 2832، 2853]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1568 سنن دارمی
مَالِكٌ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
قَالَ: وَأَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
امام مالک رحمہ اللہ نے «هشام بن عروه عن ابيه عن سيده عائشه رضي الله عنها» سے بھی اسی طرح روایت کیا ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1568]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1570] »
یہ سند بھی صحیح اور متفق علیہ حدیث ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1044] ، [مسلم 903] ، [مالك 1، وغيرهم]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1569 سنن دارمی
مَالِكٌ ، يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَمْرَةَ ، عَائِشَةَ
قَالَ: وَأَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:"خَسَفَتْ الشَّمْسُ فَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَكَتْ أَنَّهُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، فِي كُلِّ رَكْعَةٍ رَكْعَتَيْنِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: سورج گرہن ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز پڑھی، انہوں نے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو رکعت نماز پڑھی، ہر رکعت میں دو رکوع کئے۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1569]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1571] »
تخریج اوپر گذر چکی ہے۔ نیز دیکھئے: [موطأ امام مالك: باب الكسوف 3]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1570 سنن دارمی
الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ ، أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ
أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "أَمَرَ حِينَ كَسَفَتْ الشَّمْسُ بِعَتَاقَةٍ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جس وقت سورج کو گرہن لگا رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صدقے کا حکم دیا۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1570]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «، [مكتبه الشامله نمبر: 1572] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 86، 1054] ، [مسلم 905] ، [مالك فى الموطا الكسوف 4] ، [ابن حبان 2855]
حدیث نمبر: 1571 سنن دارمی
أَبُو حُذَيْفَةَ مُوسَى بْنُ مَسْعُودٍ ، زَائِدَةَ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَة ، فَاطِمَةَ ، أَسْمَاءَ
قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو حُذَيْفَةَ مُوسَى بْنُ مَسْعُودٍ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَة، عَنْ فَاطِمَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
دوسری سند سے بھی سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1571]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «، [مكتبه الشامله نمبر: 1573] »
اس روایت کی تخریج اوپر گذر چکی ہے۔
وضاحت
(تشریح احادیث 1566 سے 1571)
ان تمام احادیثِ صحیحہ سے صلاةِ کسوف یا خسوف کا ثبوت اور ان کی مختلف کیفیات معلوم ہوئیں، کسوف یا خسوف دونوں کے ایک ہی معانی ہیں یعنی سورج اور چاند کا بے نور ہونا، اور یہ بے نوری خواه زمین کے ان دونوں کے درمیان حائل ہونے سے ہو یا کسی اور ظاہری سبب سے اس کا اہم معنوی سبب الله تعالیٰ کا اپنے بندوں کو یہ آگاہی دینا ہے کہ جو ذاتِ باری تعالیٰ ان اجرام فلکیہ کو جزوی اور وقتی طور پر بے نور کر دیتی ہے وہ کلی طور پر ہمیشہ کے لئے ان سے روشنی چھین کر انہیں تباہ و برباد کر سکتی ہے، کیونکہ یہ اس کی ادنیٰ مخلوق ہے۔
اسی لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جلدی سے نماز و دعا اور استغفار کی طرف لپکتے اور اس کا حکم دیتے تھے۔
صلاةِ کسوف بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کئی طرح پڑھائی ہے لیکن ہمیشہ دو رکعت ہی پڑھی، ہر رکعت میں دو سے چار بار رکوع کئے اور رکوع سے اٹھ کر پھر فاتحہ اور قرآت کی اور سجدے ہر رکعت میں دو ہی کئے ہیں۔
صحیح بخاری میں ہر رکعت میں دو بار رکوع کرنے کا ذکر ہے جو سب روایات سے زیادہ صحیح ہے، آخری احادیث میں سورج گرہن کے وقت صدقہ و خیرات کا بھی حکم ہے۔
واضح رہے کہ اس نماز میں عورت و مرد سب شریک ہو سکتے ہیں اور یہ سنّتِ مؤکدہ ہے۔