يَعْلَى ، إِسْمَاعِيل ، قَيْسٍ ، أَبِي مَسْعُودٍ
حَدَّثَنَا يَعْلَى، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:"إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَيْسَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ مِنْ النَّاسِ، وَلَكِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا، فَقُومُوا، فَصَلُّوا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک سورج اور چاند کو کسی کی موت کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا ہے، یہ تو الله کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، لہٰذا جب تم ایسا دیکھو تو کھڑے ہو جاؤ اور نماز پڑھو۔“ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1564]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1566] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1041] ، [مسلم 911] ، [نسائي 1461] ، [ابن ماجه 1261] ، [الحميدي 460]
وضاحت
(تشریح حدیث 1563)
دورِ جاہلیت میں لوگ یہ اعتقاد رکھتے تھے کہ گرہن سے زمین پر موت یا نقصان کا حادثہ ہوتا ہے، اتفاق ایسا ہوا کہ ربیع الاوّل یا ماہِ رمضان 10ھ میں سورج گرہن ہوا اور اسی دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے فرزند ابراہیم کا انتقال ہوا تو لوگوں نے کہا کہ یہ گرہن ابراہیم کی موت کی وجہ سے ہے۔
رسولِ ہدیٰ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خطبہ دیا اور اس عقیدے کی بیخ کنی فرما دی کہ ستاروں کا کچھ اثر انسانی زندگی پر نہیں ہے۔
آج بھی کوئی مسلمان ایسا عقیدہ رکھے تو وہ سراسر اسلامی عقیدے کے خلاف ہے۔
الحكم: إسناده صحيح