بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
اذان کے دوران دائیں بائیں منہ پھیرنے کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی نماز کے مسائل اذان کے دوران دائیں بائیں منہ پھیرنے کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 1232 سنن دارمی
مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، سُفْيَانُ ، عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ ، أَبِيهِ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهِ عَنْهُ، أَنَّهُ رَأَى بِلَالًا أَذَّنَ، قَالَ:"فَجَعَلْتُ أَتَتَبَّعُ فَاهُ هَهُنَا وَهَهُنَا بِالْأَذَانِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوجحیفہ سے روایت ہے انہوں نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو اذان دیتے ہوئے دیکھا، کہا: میں بھی ان کے منہ کے ساتھ اذان میں اِدھر اُدھر منہ پھیرنے لگا۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1232]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح ولكن الحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 1234] »
یہ حدیث صحیح متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 634] ، [مسلم 503 وغيرهما من أصحاب السنن] و [أبويعلی 887] ، [ابن حبان 1268] ، [الحميدي 916]
الحكم: إسناده صحيح ولكن الحديث متفق عليه
حدیث نمبر: 1233 سنن دارمی
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَبَّادٌ ، حَجَّاجٍ ، عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ ، أَبِيهِ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبَّادٌ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ بِلَالًا "رَكَزَ الْعَنَزَةَ، ثُمَّ أَذَّنَ، وَوَضَعَ أُصْبُعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ فَرَأَيْتُهُ يَدُورُ فِي أَذَانِهِ". قَالَ عَبْد اللَّهِ: حَدِيثُ الثَّوْرِيِّ أَصَحُّ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوجحیفہ سے روایت کیا ہے کہ بلال رضی اللہ عنہ نے اپنی چھڑی گاڑی، پھر اذان دی، اور اپنے دونوں کانوں میں انگلی رکھی، میں نے دیکھا کہ وہ اذان میں گھومتے ہیں۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے کہا: (اوپر والی) سفیان ثوری کی حدیث زیادہ صحیح ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1233]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف من أجل حجاج وهو: ابن أرطاة ولكن الحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 1235] »
اس سند سے یہ روایت ضعیف ہے، لیکن حدیث صحیح متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 634] ، و [مسلم 503] ، و [مسند أبى يعلی 894] ، و [موارد الظمآن 2300]
وضاحت
(تشریح احادیث 1231 سے 1233)
ان احادیث سے اذان میں «حي على الصلاة» «حي على الفلاح» کہتے وقت دائیں بائیں منہ پھیرنے، اور کانوں میں انگلی ڈالنے کا ثبوت ملتا ہے جو مستحب ہے واجب نہیں۔
الحكم: إسناده ضعيف من أجل حجاج وهو: ابن أرطاة ولكن الحديث متفق عليه