بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 1233 — اذان کے دوران دائیں بائیں منہ پھیرنے کا بیان
کتب سنن دارمی نماز کے مسائل اذان کے دوران دائیں بائیں منہ پھیرنے کا بیان حدیث 1233
حدیث نمبر: 1233 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَبَّادٌ ، حَجَّاجٍ ، عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ ، أَبِيهِ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبَّادٌ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ بِلَالًا "رَكَزَ الْعَنَزَةَ، ثُمَّ أَذَّنَ، وَوَضَعَ أُصْبُعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ فَرَأَيْتُهُ يَدُورُ فِي أَذَانِهِ". قَالَ عَبْد اللَّهِ: حَدِيثُ الثَّوْرِيِّ أَصَحُّ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوجحیفہ سے روایت کیا ہے کہ بلال رضی اللہ عنہ نے اپنی چھڑی گاڑی، پھر اذان دی، اور اپنے دونوں کانوں میں انگلی رکھی، میں نے دیکھا کہ وہ اذان میں گھومتے ہیں۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے کہا: (اوپر والی) سفیان ثوری کی حدیث زیادہ صحیح ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1233]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف من أجل حجاج وهو: ابن أرطاة ولكن الحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 1235] »
اس سند سے یہ روایت ضعیف ہے، لیکن حدیث صحیح متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 634] ، و [مسلم 503] ، و [مسند أبى يعلی 894] ، و [موارد الظمآن 2300]
وضاحت
(تشریح احادیث 1231 سے 1233)
ان احادیث سے اذان میں «حي على الصلاة» «حي على الفلاح» کہتے وقت دائیں بائیں منہ پھیرنے، اور کانوں میں انگلی ڈالنے کا ثبوت ملتا ہے جو مستحب ہے واجب نہیں۔
الحكم: إسناده ضعيف من أجل حجاج وهو: ابن أرطاة ولكن الحديث متفق عليه
← پچھلی حدیث (1232) باب پر واپس اگلی حدیث (1234) →