بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حیض والی عورت پاک ہو کر پانی نہ پائے تو کیا کرے؟
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی وضو اور طہارت کے مسائل حیض والی عورت پاک ہو کر پانی نہ پائے تو کیا کرے؟
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 1209 سنن دارمی
الْحَسَنَ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَوْذَبٍ، حَدَّثَنَا عَنْ مَطَرٍ، قَالَ: سَأَلْتُ الْحَسَنَ، وَعَطَاءً عَنْ الرَّجُلِ تَكُونُ مَعَهُ امْرَأَتُهُ فِي سَفَرٍ فَتَحِيضُ، ثُمَّ تَطْهُرُ، وَلَا تَجِدُ الْمَاءَ، قَالَا: "تَتَيَمَّمُ وَتُصَلِّي"، قَالَ: قُلْتُ لَهُمَا: يَطَؤُهَا زَوْجُهَا؟، قَالَا:"نَعَمْ، الصَّلَاةُ أَعْظَمُ مِنْ ذَلِكَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
مَطَر (الوراق) نے بیان کیا کہ حسن اور عطاء رحمہم اللہ سے میں نے اس آدمی کے بارے میں پوچھا جس کے ساتھ سفر میں اس کی بیوی ہو اور اسے حیض آ جائے، پھر پاک بھی ہو جائے لیکن پانی نہ ملے؟ ان دونوں نے فرمایا: تیمّم کرے گی اور نماز پڑھے گی، مطر نے کہا: کیا اس کا شوہر اس حالت میں اس سے وطی کر سکتا ہے؟ فرمایا: نماز اس سے عظیم تر ہے۔ یعنی جب نماز پڑھ سکتی ہے تو شوہر سے مل بھی سکتی ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1209]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 1213] »
اس روایت کی سند حسن ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 97/1] ، [بيهقي 310/1]
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 1210 سنن دارمی
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، فِي الْمَرْأَةِ تَطْهُرُ وَلَا تَجِدُ الْمَاء، قَالَ: "يُصِيبُهَا زَوْجُهَا إِذَا تَيَمَّمَتْ"، سُئِلَ عَبْد اللَّهِ: تَقُولُ بِهَذَا؟، قَالَ: إِي وَاللَّهِ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
عطاء رحمہ اللہ سے مروی ہے، جو عورت حیض سے پاک ہو کر پانی نہ پائے، فرمایا: جب تیمّم کر لے تو شوہر مل سکتا ہے۔ امام دارمی رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: آپ کی بھی یہی رائے ہے؟ فرمایا: اي والله۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1210]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف فيه ابن جريج وقد عنعن، [مكتبه الشامله نمبر: 1214] »
اس روایت کی سند ابن جریج کی تدلیس کی وجہ سے ضعیف ہے۔ دیکھئے: [مصنف عبدالرزاق 925]
وضاحت
(تشریح احادیث 1208 سے 1210)
حیض سے پاک ہونے کے بعد پانی نہ ملنے پر یہ مسئلہ درست ہے، مجبوری میں ایسا کیا جا سکتا ہے، یعنی تیمّم کر کے نماز پڑھ لے اور اس کا شوہر اس سے مل سکتا ہے۔
والله اعلم۔
الحكم: إسناده ضعيف فيه ابن جريج وقد عنعن