بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حائضہ عورت کے خضاب لگانے اور خضاب میں عورت کے نماز پڑھنے کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی وضو اور طہارت کے مسائل حائضہ عورت کے خضاب لگانے اور خضاب میں عورت کے نماز پڑھنے کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 6
حدیث نمبر: 1126 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، قَالَ: زَعَمَ لَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي حُرَّةَ وَاصِلِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: "رَأَيْتُ نِسَاءً مِنْ نِسَاءِ الْمَدِينَةِ يُصَلِّينَ فِي الْخِضَابِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
امام حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: میں نے مدینہ کی عورتوں کو خضاب لگائے ہوئے نماز پڑھتے دیکھا ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1126]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «هشيم قد عنعن وهو مدلس، [مكتبه الشامله نمبر: 1130] »
اس اثر کی سند میں ہشیم اور ابوحرۃ متکلم فیہ ہیں۔
الحكم: هشيم قد عنعن وهو مدلس
حدیث نمبر: 1127 سنن دارمی
سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ، شُعْبَةَ ، ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَمَّنْ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَمَّنْ سَمِعَ عَائِشَةَ سُئِلَتْ عَنْ الْمَرْأَةِ تَمْسَحُ عَلَى الْخِضَابِ، فَقَالَتْ: "لَأَنْ تُقْطَعَ يَدِي بِالسَّكَاكِينِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ ذَلِكَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس عورت کے بارے میں پوچھا گیا جو خضاب لگے ہاتھ میں مسح کرتی ہے، فرمایا: مجھے یہ زیادہ پسند ہے کہ اس کے بجائے میرے ہاتھ چھریوں سے کاٹ ڈالے جائیں۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1127]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «في إسناده جهالة، [مكتبه الشامله نمبر: 1131] »
اس اثر کی سند میں ایک راوی مجہول ہیں۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 120/1] و [بيهقي 27/1 الطهارة باب فى نزع الخضاب عند الوضوء ......]
الحكم: في إسناده جهالة
حدیث نمبر: 1128 سنن دارمی
سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ، ابْنِ عَوْنٍ ، أَبِي سَعِيدٍ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَت عَائِشَةَ تُصَلِّي الْمَرْأَةُ فِي الْخِضَابِ؟، قَالَتْ: "اسْلُتِيهِ وَرَغْمًا"، قَالَ أَبُو مُحَمَّد: أَبُو سَعِيدٍ هُوَ ابْنُ أَبِي الْعَنَبْسِ، وَاسْمُ أَبِي الْعَنَبْسِ: سَعِيدُ بْنُ كَثِيرِ بْنِ عُبَيْدٍ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوسعید (کثیر بن عبید) سے مروی ہے کہ ایک عورت نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا: عورت خضاب لگا کر نماز پڑھ سکتی ہے؟ فرمایا: سوت (کھرچ) کر اسے پھینک دو۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے فرمایا: ابوسعید ابوالعنبس کے بیٹے ہیں اور ابوالعنبس کا نام سعید بن کثیر بن عبید ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1128]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد، [مكتبه الشامله نمبر: 1132] »
اس اثر کی سند جید ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 119/1] و [بيهقي 77/1]
وضاحت
(تشریح احادیث 1125 سے 1128)
«وَرَغْمًا» بعض روایت میں ہے: «وَارْغَمِيْهِ» اس کے معنی تراب کے ہیں، یعنی: مٹی سے رگڑ دے۔
الحكم: إسناده جيد
حدیث نمبر: 1129 سنن دارمی
عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، قَتَادَةَ ، أَبِي مِجْلَزٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: "كُنَّ نِسَاءَنَا يَخْتَضِبْنَ بِاللَّيْلِ، فَإِذَا أَصْبَحْنَ، فَتَحْنَهُ فَتَوَضَّأْنَ وَصَلَّيْنَ، ثُمَّ يَخْتَضِبْنَ بَعْدَ الصَّلَاةِ، فَإِذَا كَانَ عِنْدَ الظُّهْرِ، فَتَحْنَهُ فَتَوَضَّأْنَ وَصَلَّيْنَ فَأَحْسَنَّ خِضَابًا، وَلَا يَمْنَعُ مِنْ الصَّلَاةِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہماری عورتیں رات میں مہندی لگاتی تھیں، جب صبح ہوتی تو اسے کھول دیتیں، وضو کرتیں اور نماز پڑھ لیتی تھیں۔ اور نماز کے بعد پھر خضاب لگا لیتیں، اور اگر ظہر کا وقت ہو جاتا تو پھر اسے کھول دیتیں، وضو کرتیں اور نماز پڑھتیں، اس طرح بہت اچھا رنگ چڑھ جاتا، اور یہ چیز نماز سے مانع نہ ہوتی۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1129]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1133] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 120/1] ، [بيهقي 77/1] و [مصنف عبدالرزاق 7930]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1130 سنن دارمی
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ نِسَاءَ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كُنّ "يَخْتَضِبْنَ وَهُنَّ حُيَّضٌ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
نافع رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی عورتیں حیض کی حالت میں خضاب (مہندی) لگاتی تھیں۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1130]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1134] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ کہیں اور یہ روایت نہیں ملی۔ حجاج: ابن منہال اور ایوب: السختیانی ہیں۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1131 سنن دارمی
مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، هِشَامٌ ، قَتَادَةُ ، أَبِي مِجْلَزٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: "كُنَّ نِسَاؤُنَا إِذَا صَلَّيْنَ الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ، اخْتَضَبْنَ، فَإِذَا أَصْبَحْنَ أَطْلَقْنَهُ وَتَوَضَّأْنَ وَصَلَّيْنَ، وَإِذَا صَلَّيْنَ الظُّهْرَ اخْتَضَبْنَ، فَإِذَا أَرَدْنَ أَنْ يُصَلِّينَ الْعَصْرَ، أَطْلَقْنَهُ فَأَحْسَنَّ خِضَابَهُ وَلَا يَحْبِسْنَ عَنْ الصَّلَاةِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہماری عورتیں عشاء کے بعد خضاب لگا لیتی تھیں اور جب صبح ہوتی تو اسے کھول دیتیں، وضو کر کے نماز پڑھتی تھیں، اور جب ظہر پڑھ لیتی تھیں تو پھر باندھ لیتیں اور عصر پڑھنی ہوتی تو کھول دیتی تھیں، اس سے اچھا رنگ چڑھ جاتا اور وہ خضاب (یا مہندی) کی وجہ سے نماز کو نہ چھوڑتی تھیں۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1131]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1135] »
اس روایت کی سند صحیح ہے، جیسا کہ (1129) میں ابھی گذر چکا ہے۔
وضاحت
(تشریح احادیث 1128 سے 1131)
ان تمام آثار سے یہ بات واضح ہوئی کہ حائضہ عورت خضاب لگا سکتی ہے، اور اگر کسی عام عورت نے مہندی یا خضاب لگا لیا اور نماز کا وقت آجائے تو اس کو دھو کر اور وضو کر کے نماز پڑھ سکتی ہے۔
لیکن صحیح یہ لگتا ہے کہ خضاب سے پہلے وضو کر لے اور پھر خضاب لگا کر نماز پڑھ لی جائے تو اچھا ہے۔
واللہ اعلم۔
الحكم: إسناده صحيح