بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
نفاس کے احکام کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی وضو اور طہارت کے مسائل نفاس کے احکام کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 7
حدیث نمبر: 984 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا أَبُو سُفْيَانَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ فِي النُّفَسَاءِ "كَطُهْرِ امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهَا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
قتادۃ نے نفاس والی عورتوں کے بارے میں کہا کہ ان کی پاکی ان جیسی عورتوں کی طرح ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 984]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 988] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف عبدالرزاق 1200]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 985 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ الْحَسَنِ فِي النُّفَسَاءِ "تُمْسِكُ عَنْ الصَّلَاةِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا، فَإِنْ رَأَتْ الطُّهْرَ فَذَاكَ، وَإِنْ لَمْ تَرَ الطُّهْرَ، أَمْسَكَتْ عَنْ الصَّلَاةِ أَيَّامًا خَمْسًا، سِتًّا، فَإِنْ طَهُرَتْ فَذَاكَ، وَإِلَّا أَمْسَكَتْ عَنْ الصَّلَاةِ مَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْخَمْسِينَ، فَإِنْ طَهُرَتْ فَذَاكَ، وَإِلَّا فَهِيَ مُسْتَحَاضَةٌ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
امام حسن رحمہ اللہ سے نفاس والی عورتوں کے بارے میں مروی ہے کہ وہ چالیس دن تک نماز سے رکی رہیں گی، چالیس دن میں پا کی ہو جائے تو ٹھیک ہے، ورنہ پانچ یا چھ دن اور نماز سے رکی رہیں گی، (45 دن بعد) پھر اگر طہر ہو جائے تو ٹھیک ورنہ 45 سے 50 تک اور نماز سے رکی رہیں گی، پھر اگر پاکی ہو جائے تو ٹھیک ورنہ پھر مستحاضہ میں شمار ہوں گی۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 985]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف، [مكتبه الشامله نمبر: 989] »
اس قول کی سند ضعیف ہے، اور (855) میں گزر چکی ہے۔ نیز آنے والی تخریج دیکھئے۔
الحكم: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 986 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ أَنَّهُ كَانَ "لَا يَقْرَبُ النُّفَسَاءَ أَرْبَعِينَ يَوْمًا"، وقَالَ الْحَسَنُ:"النُّفَسَاءُ خَمْسَةٌ وَأَرْبَعُونَ إِلَى خَمْسِينَ، فَمَا زَادَ فَهِيَ مُسْتَحَاضَةٌ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
عثمان بن ابی العاص نفاس والی عورت کے چالیس دن تک قریب نہیں جاتے تھے، (یعنی جماع سے پرہیز کرتے تھے)۔ اور امام حسن رحمہ اللہ نے کہا: نفاس والی عورتیں پنتالیس سے پچاس دن تک ہیں، اس کے بعد مستحاضہ شمار ہوں گی۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 986]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده منقطع الحسن لم يسمع من عثمان شيئا، [مكتبه الشامله نمبر: 990] »
اس روایت کی سند میں انقطاع ہے، کیونکہ حسن نے عثمان سے نہیں سنا۔ دیکھئے: [مصنف عبدالرزاق 1201] و [المنتقى لابن الجارود 118]
الحكم: إسناده منقطع الحسن لم يسمع من عثمان شيئا
حدیث نمبر: 987 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ، قَالَ: "وَقْتُ النُّفَسَاءِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا، فَإِنْ طَهُرَتْ، وَإِلَّا فَلَا تُجَاوِزْهُ حَتَّى تُصَلِّيَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
عثمان بن ابی العاص نے کہا: نفاس کی مدت چالیس دن ہے، اگر پاک ہو جائے تو ٹھیک ورنہ نماز پڑھے گی، اس سے تجاوز نہ کرے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 987]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف إسماعيل بن مسلم والحسن لم يسمع من عثمان شيئا، [مكتبه الشامله نمبر: 991] »
اس روایت کی سند متعدد طرق سے مروی ہے، لیکن سب ضعیف ہیں، اور «فلا تجاوزه حتى تصلي» کا ذکر کہیں نہیں ہے۔ دیکھئے: [دارقطني 220/1، 67] ، [بيهقي 341/1] ، [مصنف عبدالرزاق 1202] و [التلخيص الحبير 171/1]
وضاحت
(تشریح احادیث 983 سے 987)
یعنی چالیس دن کے بعد بیٹھ نہ رہے بلکہ نماز پڑھے۔
مطلب یہ کہ وہ مستحاضہ کے حکم میں ہے۔
وہ نماز پڑھے گی اور شوہر اس سے ہم بستری کر سکتا ہے۔
الحكم: إسناده ضعيف لضعف إسماعيل بن مسلم والحسن لم يسمع من عثمان شيئا
حدیث نمبر: 988 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: "إِنْ كَانَ لِلنُّفَسَاءِ عَادَةٌ، وَإِلَّا جَلَسَتْ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
عطاء رحمہ اللہ نے کہا: اگر نفساء کی عادت معروف ہو تو ٹھیک ورنہ چالیس دن بیٹھ رہیں گی۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 988]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 992] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 368/4] و [بيهقي 341/1]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 989 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: "النِّفَاسُ حَيْضٌ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
عطاء رحمہ اللہ نے کہا: نفاس حیض ہی ہے۔ (یعنی اس کا حکم حیض کا حکم ہے)۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 989]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف وابن جريج قد عنعن وهو مدلس، [مكتبه الشامله نمبر: 993] »
اس قول کی سند ابن جریج کی وجہ سے ضعیف ہے، کیونکہ وہ مدلس ہیں، اور انہوں نے عنعنہ سے روایت کی ہے۔
الحكم: إسناده ضعيف وابن جريج قد عنعن وهو مدلس
حدیث نمبر: 990 سنن دارمی
أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، أَبُو عَوَانَةَ ، أَبِي بِشْرٍ ، يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: "تَنْتَظِرُ النُّفَسَاءُ أَرْبَعِينَ يَوْمًا أَوْ نَحْوَهَا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے: نفاس والی عورتیں تقریباً چالیس دن تک انتظار کریں گی۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 990]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 994] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 368/4] ، [بيهقي 341/1] ، ورقم (995)۔
وضاحت
(تشریح احادیث 987 سے 990)
ان تمام روایات سے واضح ہوا کہ نفاس کی مدت چالیس دن ہے، ان دنوں میں حائضہ کی طرح نماز ترک کر دے گی، یہ مدت چالیس دن سے کم و بیش بھی ہو سکتی ہے، بعض فقہاء کے نزدیک چالیس دن سے زیادہ خون جاری رہے تو پچاس دن تک اور انتظار کرے گی، بعض نے کہا چالیس دن کے بعد وہ مستحاضہ کے حکم میں ہے۔
الحكم: إسناده صحيح