مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، أَبَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، مَوْلًى ، أَبِي هُرَيْرَةَ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ أَبَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ مَوْلًى لِأَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "ائْتِنِي بِوَضُوءٍ"،"ثُمَّ دَخَلَ غَيْضَةً فَأَتَيْتُهُ بِمَاءٍ فَاسْتَنْجَى، ثُمَّ مَسَحَ يَدَهُ بِالتُّرَابِ، ثُمَّ غَسَلَ يَدَيْهِ"..
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”وضو کا پانی لاؤ“، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم درختوں کے جھنڈ میں چلے گئے، میں پانی لے کر آیا تو آپ نے استنجاء کیا، پھر اپنے ہاتھ کو مٹی پر رگڑا، پھر دونوں ہاتھ دھوئے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 701]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لجهالة مولى أبي هريرة، [مكتبه الشامله نمبر: 705] »
اس روایت کی سند میں مولی ابی ہریرہ ضعیف ہیں، ابان بھی لین ہیں۔ تخریج کے لیے دیکھئے: [مسند أبى يعلی 6136] ، [صحيح ابن حبان 1405] و [الموارد 139] ، لیکن بمجموع طرق یہ حدیث حسن ہے۔
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة مولى أبي هريرة