بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
اچھا یا برا طریقہ رائج کرنے کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی مقدمہ اچھا یا برا طریقہ رائج کرنے کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 6
حدیث نمبر: 529 سنن دارمی
الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَاصِمٌ ، شَقِيقٍ ، جَرِيرٍ
أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنَاهُ عَاصِمٌ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ جَرِيرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ سَنَّ سُنَّةً حَسَنَةً عُمِلَ بِهَا بَعْدَهُ، كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ غَيْرِ أَنْ يُنْقَصَ مِنْ أَجْرِهِ شَيْءٌ، وَمَنْ سَنَّ سُنَّةً سَيِّئَةً، كَانَ عَلَيْهِ مِثْلُ وِزْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ غَيْرِ أَنْ يُنْقَصَ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْءٌ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اچھی بات (کتاب و سنت کی بات) رائج کرے اور لوگ اس کے بعد اس پر عمل کریں تو اس کے لئے اتنا ثواب ہو گا جتنا اس پر عمل کرنے والے کو ثواب ہو گا، اور عمل کرنے والے کے ثواب میں کوئی کمی نہ ہو گی۔ اور جو بری بات جاری کرے اور لوگ اس کے بعد اس پر عمل کریں تو تمام عمل کرنے والوں کے برابر اس پر گناہ ہو گا، اور عمل کرنے والوں کا گناہ کچھ کم نہ ہو گا۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 529]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن من أجل عاصم ولكن الحديث صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 529] »
اس حدیث کی سند حسن ہے، لیکن دوسری سند سے حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [صحيح مسلم 1017] ، [صحيح ابن حبان 3308] ، [مسند الحميدي 825] و [صحيح ابن خزيمه 2477]
وضاحت
(تشریح حدیث 528)
مطلب یہ ہے کہ شرع میں جس چیز کی خوبی ثابت ہے اس کو جو کوئی رواج دے گا تو اس کو نہایت ثواب ہوگا، جیسے صدقہ و خیرات وغیرہ، اور جو بری چیز رائج کرے بدعت و گمراہی وغیرہ تو اس کا گناه رائج کرنے والے پر زیادہ ہوگا۔
واضح رہے کہ «مَنْ سَنَّ سُنَّةً حَسَنَةً» سے یہ مراد قطعاً نہیں کہ کوئی نئی بات ایجاد کرے، جیسا کہ بعض افراد کا خیال ہے اور وہ اس سے بدعتِ حسنہ کی دلیل پکڑتے ہیں۔
الحكم: إسناده حسن من أجل عاصم ولكن الحديث صحيح
حدیث نمبر: 530 سنن دارمی
الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ ، إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ ، الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ مَوْلَى الْحُرَقَةِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَنْ دَعَا إِلَى هُدًى، كَانَ لَهُ مِنْ الْأَجْرِ مِثْلُ أُجُورِ مَنْ اتَّبَعَهُ، لَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا، وَمَنْ دَعَا إِلَى ضَلَالَةٍ، كَانَ عَلَيْهِ مِنْ الْإِثْمِ مِثْلُ آثَامِ مَنْ اتَّبِعَهُ لَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ آثَامِهِمْ شَيْئًا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ہدایت کی طرف بلائے اس کو ہدایت پر چلنے والے کا بھی ثواب ملے گا اور چلنے والوں کا ثواب کچھ کم نہ ہو گا، اور جو شخص اپنی گمراہی کی طرف بلائے گا تو اس کے اوپر اس کی اتباع و عمل کرنے والے کا بھی گناہ ہو گا اور اتباع کرنے والوں کے گناہ سے کچھ کم نہ ہو گا۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 530]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 530] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [صحيح مسلم 2674] ، [صحيح ابن حبان 112] ، [مسند أبى يعلی 6489] و [السنة لابن أبى عاصم 112]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 531 سنن دارمی
الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، مُسْلِمٍ يَعْنِي ابْنَ صُبَيْحٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هِلَالٍ الْعَبْسِيِّ ، جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ مُسْلِمٍ يَعْنِي ابْنَ صُبَيْحٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هِلَالٍ الْعَبْسِيِّ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"فَحَثَّ النَّاسَ عَلَى الصَّدَقَةِ، فَأَبْطَئُوا حَتَّى بَانَ فِي وَجْهِهِ الْغَضَبُ"، ثُمَّ إِنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ جَاءَ بِصُرَّةٍ، فَتَتَابَعَ النَّاسُ حَتَّى رُئِيَ فِي وَجْهِهِ السُّرُورُ، فَقَالَ: "مَنْ سَنَّ سُنَّةً حَسَنَةً، كَانَ لَهُ أَجْرُهُ، وَمِثْلُ أَجْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ غَيْرِ أَنْ يُنْقَصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْءٌ، وَمَنْ سَنَّ سُنَّةً سَيِّئَةً، كَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهُ، وَمِثْلُ وِزْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ غَيْرِ أَنْ يُنْقَصَ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْءٌ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا جریر بن عبدالله رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہم کو خطبہ دیا اور لوگوں کو صدقے کی ترغیب دی، لیکن لوگوں نے تاخیر کی حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چہرے پر غصے کے آثار نمایاں ہو گئے، بعدہ انصار کا ایک آدمی ایک تھیلی لے کر آیا، پھر لوگوں کا تانتا لگ گیا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چہرہ مبارک پر خوشی کے آثار دیکھے گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اچھی بات جاری کرے تو اس کے لئے اپنا اجر بھی ہے اور عمل کرنے والے کا بھی اجر ہے، اور عمل کرنے والوں کے اجر میں کچھ کمی نہ ہو گی، اور جو بری بات رائج کرے تو اس پر اپنے کئے کا بوجھ ہو گا، اور جو اس پر عمل کرے گا اس کا بھی بوجھ ہو گا، عمل کرنے والوں کے بوجھ و گناہ میں کوئی کمی نہ ہو گی۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 531]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 531] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ لالکائی نے [شرح أصول اعتقاد أهل السنة 5] میں اسے ذکر کیا ہے۔ نیز دیکھئے: تخريج رقم (529)۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 532 سنن دارمی
عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ سَعِيدٍ ، شُعَيْبٌ هُوَ ابْنُ إِسْحَاق ، الْأَوْزَاعِيُّ ، حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ هُوَ ابْنُ إِسْحَاق، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "أَنَا أَعْظَمُكُمْ أَجْرًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ، لِأَنَّ لِي أَجْرِي وَمِثْلَ أَجْرِ مَنْ اتَّبَعَنِي".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
حسان بن عطیہ نے بیان کیا: رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن تم سب سے زیادہ میرا اجر ہو گا، ایک تو میرا اپنا اجر دوسرے مجھے میری اتباع کرنے والے کا بھی اجر ملے گا۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 532]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «مرسل وإسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 532] »
یہ مرسل روایت ہے، لیکن سند صحیح ہے۔ «وانفرد به الدارمي» ، لیکن اس کی تائید حدیث «من سن سنة حسنة» سے ہوتی ہے جو اس باب کے شروع میں مذکور ہے۔
الحكم: مرسل وإسناده صحيح
حدیث نمبر: 533 سنن دارمی
مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، عَبْدُ السَّلَامِ ، لَيْثٍ ، بِشْرٍ ، أَنَسٍ
أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ بِشْرٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ دَعَا إِلَى أَمْرٍ وَلَوْ دَعَا رَجُلٌ رَجُلًا، كَانَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَوْقُوفًا بِهِ، لَازِمًا بِغَارِبِهِ , ثُمَّ قَرَأَ: وَقِفُوهُمْ إِنَّهُمْ مَسْئُولُونَ سورة الصافات آية 24".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی چیز کی طرف بلائے چاہے ایک آدمی ایک آدمی ہی کو دعوت دے تو وہ قیامت کے دن اس دعوت کی بنا پر روک دیا جائے گا، اس کی دعوت کا وبال اسے چمٹا ہو گا، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: « ﴿وَقِفُوهُمْ إِنَّهُمْ مَسْئُولُونَ﴾ » انہیں روک لو، کیونکہ ان سے سوال کئے جائیں گے۔ [الصافات: 24/37] [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 533]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف ليث بن أبي سليم، [مكتبه الشامله نمبر: 533] »
لیث بن ابی سلیم کی وجہ سے اس کی سند ضعیف ہے۔ دیکھئے: [ترمذي 3226] ، [التاريخ الكبير للبخاري 86/2] ، [المستدرك 430/2] ، [تفسير طبري 48/23] ، [الدر المنثور 273/5] ، امام ترمذی نے اس حدیث کو حسن غریب کہا ہے۔
الحكم: إسناده ضعيف لضعف ليث بن أبي سليم
حدیث نمبر: 534 سنن دارمی
عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَاصِمٍ ، الشَّعْبِيِّ ، ابْنَ مَسْعُودٍ
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: "أَرْبَعٌ يُعْطَاهَا الرَّجُلُ بَعْدَ مَوْتِهِ: ثُلُثُ مَالِهِ إِذَا كَانَ فِيهِ قَبْلَ ذَلِكَ لِلَّهِ مُطِيعًا، وَالْوَلَدُ الصَّالِحُ يَدْعُو لَهُ مِنْ بَعْدِ مَوْتِهِ، وَالسُّنَّةُ الْحَسَنَةُ يَسُنُّهَا الرَّجُلُ فَيُعْمَلُ بِهَا بَعْدَ مَوْتِهِ، وَالْمِائَةُ إِذَا شَفَعُوا لِلرَّجُلِ شُفِّعُوا فِيهِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
امام شعبی رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ سیدنا عبدالله بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: چار چیزیں ہیں جو آدمی کو قیامت کے دن عطا کی جائیں گی: اس کے مال کا تہائی حصہ، اگر اس میں موت سے قبل الله تعالیٰ کا مطیع و فرماں بردار تھا، دوسرے نیک صالح اولاد جو اس کی وفات کے بعد اس کے لئے دعا کرتی رہے، تیسرے وہ اچھا طریقہ جو انسان رائج کرے اور اس کی موت کے بعد اس پر عمل کیا جاتا رہے۔ چوتھے سو آدمی جو اس شخص کے لئے سفارش کریں ان کی سفارش اس کے حق میں قبول کی جائے گی۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 534]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى عبد الله ولكن مثله لا يقال بالرأي، [مكتبه الشامله نمبر: 534] »
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تک اس روایت کی سند صحیح ہے۔ نیز اس طرح کی باتیں اپنی طرف سے یا رائے اور قیاس سے نہیں کہی جاسکتی ہیں، اس روایت کو امام دارمی کے علاوہ کسی نے روایت نہیں کیا، نیز صدقۂ جاریہ، الولد الصالح، والسنۃ الحسنۃ کے شواہد صحیحہ موجود ہیں۔ حدیث میں ہے: ”جب انسان مر جاتا ہے تو اس کے اعمال کا سلسلہ بھی منقطع ہو جاتا ہے سوائے تین قسم کے اعمال کے: صدقۂ جاریہ، وہ علم جس سے فائدہ اٹھایا جائے، اور نیک اولاد جو اس کے لئے دعا کرے۔“ یہ حدیث آگے (578) نمبر پر آ رہی ہے۔
الحكم: إسناده صحيح إلى عبد الله ولكن مثله لا يقال بالرأي