مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، عَبْدُ السَّلَامِ ، لَيْثٍ ، بِشْرٍ ، أَنَسٍ
أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ بِشْرٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ دَعَا إِلَى أَمْرٍ وَلَوْ دَعَا رَجُلٌ رَجُلًا، كَانَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَوْقُوفًا بِهِ، لَازِمًا بِغَارِبِهِ , ثُمَّ قَرَأَ: وَقِفُوهُمْ إِنَّهُمْ مَسْئُولُونَ سورة الصافات آية 24".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی چیز کی طرف بلائے چاہے ایک آدمی ایک آدمی ہی کو دعوت دے تو وہ قیامت کے دن اس دعوت کی بنا پر روک دیا جائے گا، اس کی دعوت کا وبال اسے چمٹا ہو گا“، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: « ﴿وَقِفُوهُمْ إِنَّهُمْ مَسْئُولُونَ﴾ » ”انہیں روک لو، کیونکہ ان سے سوال کئے جائیں گے۔“ [الصافات: 24/37] [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 533]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف ليث بن أبي سليم، [مكتبه الشامله نمبر: 533] »
لیث بن ابی سلیم کی وجہ سے اس کی سند ضعیف ہے۔ دیکھئے: [ترمذي 3226] ، [التاريخ الكبير للبخاري 86/2] ، [المستدرك 430/2] ، [تفسير طبري 48/23] ، [الدر المنثور 273/5] ، امام ترمذی نے اس حدیث کو حسن غریب کہا ہے۔
الحكم: إسناده ضعيف لضعف ليث بن أبي سليم