بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
علم میں مساوات و برابری کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی مقدمہ علم میں مساوات و برابری کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 4
حدیث نمبر: 417 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ابْنِ مَيْسَرَةَ، قَالَ: "مَا رَأَيْتُ أَحَدًا مِنْ النَّاسِ الشَّرِيفُ وَالْوَضِيعُ عِنْدَهُ سَوَاءٌ غَيْرَ طَاوُسٍ وَهُوَ يَحْلِفُ عَلَيْهِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ابراہیم بن میسرہ نے کہا: میں نے لوگوں میں سے کسی کو امام طاؤوس رحمہ اللہ کے علاوہ ایسا نہیں دیکھا جس کے نزدیک شریف و کمین برابر ہوں۔ (ابراہیم) ابن میسرہ اس پر قسم کھاتے تھے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 417]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 417] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [حلية الأولياء 16/4]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 418 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: "كُنَّا نَكْرَهُ كِتَابَةَ الْعِلْمِ حَتَّى أَكْرَهَنَا عَلَيْهِ السُّلْطَانُ فَكَرِهْنَا أَنْ نَمْنَعَهُ أَحَدًا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
امام زہری رحمہ اللہ نے فرمایا: ہم علم کو لکھانا ناپسند کرتے تھے، لیکن سلطان نے ہمیں اس پر مجبور کر دیا، اور اب ہم کتابت علم سے کسی کو روکنا ناپسند کرتے ہیں۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 418]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 418] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [جامع بيان العلم 439، 1096] ، [مصنف عبدالرزاق 20486] ، [تقييد العلم للخطيب ص: 107] ، [المعرفة والتاريخ للفسوي633/1]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 419 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، قَالَ: كَلَّمُوا مُحَمَّدًا فِي رَجُلٍ يَعْنِي: يُحَدِّثُهُ فَقَالَ: "لَوْ كَانَ رَجُلًا مِنْ الزِّنْجِ، لَكَانَ عِنْدِي، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ فِي هَذَا سَوَاءً".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
عبداللہ بن عون رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ لوگوں نے امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ سے ایک آدمی کے بارے میں عرض کیا کہ وہ (خصوصیت کے ساتھ) اس کو حدیث کا درس دیں، تو انہوں نے فرمایا: اگر وہ آدمی حبشی ہو تب بھی وہ اور (میرا بیٹا) عبدالله بن محمد اس سلسلے میں برابر ہیں۔ (یعنی قدر و منزلت میں)۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 419]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 419] »
اس قول کی سند صحیح ہے، لیکن امام دارمی کے علاوہ کسی نے اسے روایت نہیں کیا۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 420 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ الصَّلْتِ بْنِ رَاشِدٍ، أَنَّه سَأَلَ سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ طَاوُسًا عَنْ مَسْأَلَةٍ فَلَمْ يُجِبْهُ، فَقِيلَ لَهُ: هَذَا سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ، قَالَ: "ذَلِكَ أَهْوَنُ لَهُ عَلَيَّ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
صلت بن راشد نے کہا: سلم بن قتیبہ نے کسی مسئلہ میں امام طاؤوس رحمہ اللہ سے سوال کیا، جس کا انہوں نے جواب نہیں دیا، عرض کیا گیا: یہ سلم بن قتیبہ ہیں، فرمایا: یہ اور بھی میرے اوپر آسان ہے۔ یعنی بڑے چھوٹے علم کے سلسلے میں سب برابر ہیں۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 420]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 420] »
اس روایت کی سند صحیح ہے، لیکن کسی اور مرجع و مصدر میں نہیں مل سکی۔ اس میں سلم بن قتیبہ الباہلی کا ذکر ہے جو امیر بصرہ تھے، جنہیں خلیفہ المنصور نے معزول کر دیا تھا، اور وہ بڑے رعب و دبدبہ کے مالک تھے۔ دیکھئے: [الكامل لابن اثير 106/4]
الحكم: إسناده صحيح