الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، الْأَوْزَاعِيِّ ، دَاوُدَ بْنِ عَلِيٍّ
أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا نَحْجُبُكَ؟، فَقَالَ: "لَا، دَعُوهُمْ يَطَئُونَ عَقِبِي وَأَطَأُ أَعْقَابَهُمْ حَتَّى يُرِيحَنِيَ اللَّهُ مِنْهُمْ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
داود بن علی نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا گیا ہم آپ کے لئے آڑ بنا دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، انہیں چھوڑو اور میری ایڑیاں مسلنے دو، میں ان کے قدم روند ڈالوں گا یہاں تک کہ اللہ تعالی مجھے ان سے راحت اور نجات دے دے گا۔“ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 77]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده معضل، [مكتبه الشامله نمبر: 77] »
اس روایت کی سند میں کئی راوی ساقط ہیں لہٰذا معصل ضعیف ہے لیکن اس کا شاہد پچھلی روایت میں ذکر کیا جا چکا ہے۔
الحكم: إسناده معضل