بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 76 — نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا بیان
کتب سنن دارمی مقدمہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا بیان حدیث 76
سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، أَيُّوبَ ، عِكْرِمَةَ ، الْعَبَّاسُ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: قَالَ الْعَبَّاسُ رِضْوَانُ اللَّهُ عَلَيْهِ: لَأَعْلَمَنَّ مَا بَقَاءُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِينَا؟، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَرَاهُمْ قَدْ آذَوْكَ وَآذَاكَ غُبَارُهُمْ، فَلَوِ اتَّخَذْتَ عَرِيشًا تُكَلِّمُهُمْ مِنْهُ؟، فَقَالَ: "لَا أَزَالُ بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ يَطَئُونَ عَقِبِي، وَيُنَازِعُونِي رِدَائِي حَتَّى يَكُونَ اللَّهُ هُوَ الَّذِي يُرِيحُنِي مِنْهُمْ"، قَالَ: فَعَلِمْتُ أَنَّ بَقَاءَهُ فِينَا قَلِيلٌ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا میں ضرور معلوم کروں گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کب تک حیات رہیں گے؟ چنانچہ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں جانتا ہوں کہ نہ صرف لوگوں نے آپ کو اذیت پہنچائی، بلکہ ان کے غبار تک نے آپ کو اذیت دی، اگر آپ ایک تخت بنا لیں جس سے آپ ان سے گفتگو کر سکیں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں اب تک موجود ہوں، وہ میری ایڑیاں کچلتے رہیں، مری چادر کھینچتے رہیں، بس اللہ ہی مجھے ان سے راحت دے گا۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: بس میں نے سمجھ لیا کہ اب آپ تھوڑے ہی دن ہمارے درمیان حیات رہیں گے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 76]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لانقطاعه عكرمة لم يدرك العباس، [مكتبه الشامله نمبر: 76] »
اس روایت کی یہ سند ضعیف ہے کیونکہ عکرمہ کا لقاء حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے ثابت نہیں، اس کو [ابن ابي شيبه 16273] اور بزار نے روایت کیا ہے۔ دیکھئے: [كشف الاستار 2466] لیکن مسند بزار ہی میں اس کا صحیح شاہد موجود ہے۔ دیکھئے: [مسند بزار 2467] اور [مصنف عبدالرزاق 434/5] میں بھی، لہٰذا حدیث صحیح ہے۔
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه عكرمة لم يدرك العباس
← پچھلی حدیث (75) باب پر واپس اگلی حدیث (77) →