بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 450 — حدیث کی تفسیر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول میں دوسروں کے قول سے بچنے کا بیان
کتب سنن دارمی مقدمہ حدیث کی تفسیر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول میں دوسروں کے قول سے بچنے کا بیان حدیث 450
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي رَبَاحٍ شَيْخٌ مِنْ آلِ عُمَرَ، قَالَ: رَأَى سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ رَجُلًا يُصَلِّي بَعْدَ الْعَصْرِ الرَّكْعَتَيْنِ يُكَبِّرُ، فَقَالَ لَهُ: يَا أَبَا مُحَمَّدٍ، أَيُعَذِّبُنِي اللَّهُ عَلَى الصَّلَاةِ؟، قَالَ: "لَا، وَلَكِنْ يُعَذِّبُكَ اللَّهُ بِخِلَافِ السُّنَّةِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
آل عمر کے ایک شخص ابورباح نے کہا: سعید بن المسيب رحمہ اللہ نے عصر کے بعد ایک آدمی کو کثرت سے دو رکعت نماز پڑھتے دیکھا، اس نے دریافت کیا: اے ابومحمد! (سعید بن المسیب کی کنیت) کیا اللہ تعالیٰ نماز پڑھنے پر مجھے عذاب دے گا؟ انہوں نے کہا نہیں (نماز پڑھنے پر تو نہیں) بلکہ سنت کی خلاف ورزی پر اللہ تعالیٰ تمہیں ضرور عذاب دے گا۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 450]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد، [مكتبه الشامله نمبر: 450] »
اس روایت کی سند جید ہے، اور ابورباح کا نام عبداللہ بن رباح القرشی ہے، اور اسے خطیب نے [الفقيه والمتفقه 387] میں سند حسن سے ذکر کیا ہے۔
وضاحت
(تشریح احادیث 443 سے 450)
ان آثار و اقوال میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اطاعت و اتباع کی ترغیب اور بدعات و مختلف آراء سے بچنے کی تلقین ہے، اور وہ کام جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نہیں کیا اس سے دور رہنے کی ہدایت اور دردناک عذاب کی وعیدِ شدید ہے، چاہے وہ خلافِ سنّت کام نماز ہی کیوں نہ ہو، جیسا کہ اس آخری روایت میں مذکور ہے۔
واللہ اعلم۔
الحكم: إسناده جيد
← پچھلی حدیث (449) باب پر واپس اگلی حدیث (451) →