بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 449 — حدیث کی تفسیر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول میں دوسروں کے قول سے بچنے کا بیان
کتب سنن دارمی مقدمہ حدیث کی تفسیر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول میں دوسروں کے قول سے بچنے کا بیان حدیث 449
مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، ابْنُ نُمَيْرٍ ، مُجَالِدٍ ، عَامِرٍ ، جَابِرٍ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنُسْخَةٍ مِنْ التَّوْرَاةِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذِهِ نُسْخَةٌ مِنْ التَّوْرَاةِ، فَسَكَتَ، فَجَعَلَ يَقْرَأُ وَوَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ يَتَغَيَّرُ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيهِ: ثَكِلَتْكَ الثَّوَاكِلُ، مَا تَرَى مَا بِوَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَنَظَرَ عُمَرُ إِلَى وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ غَضَبِ اللَّهِ، وَمِنْ غَضَبِ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَوْ بَدَا لَكُمْ مُوسَى فَاتَّبَعْتُمُوهُ وَتَرَكْتُمُونِي، لَضَلَلْتُمْ عَنْ سَوَاءِ السَّبِيلِ، وَلَوْ كَانَ حَيًّا وَأَدْرَكَ نُبُوَّتِي لَاتَّبَعَنِي".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس توراۃ کا ایک نسخہ لے کر تشریف لائے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ توریت کا نسخہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خاموش رہے اور عمر رضی اللہ عنہ اسے پڑھنے لگے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا چہرہ مبارک بدلنے لگا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: کھونے (گم کرنے) والی مائیں تمہیں کھو دیں (گم کر دیں)، کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چہرے کو دیکھتے نہیں ہو؟ چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چہرے کی طرف دیکھا تو کہا: میں اللہ کے غضب اور اس کے رسول کے غضب سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں، ہم اللہ کے رب ہونے اور اسلام کے دین اور محمد کے نبی ہونے سے راضی ہیں۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے، اگر موسیٰ علیہ السلام بھی تمہارے لئے ظاہر ہو جائیں اور تم ان کی اتباع کرو اور مجھے چھوڑ دو تو تم سیدھے راستے سے بھٹک جاؤ گے (گمراہ ہو جاؤ گے) اگر وہ (موسیٰ) زندہ ہوتے اور میری نبوت کو پا لیتے تو وہ بھی میری اتباع کرتے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 449]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «، [مكتبه الشامله نمبر: 449] »
یہ سند مجالد کی وجہ سے ضعیف ہے، لیکن حدیث حسن ہے، اس کو ابن ابی شیبہ نے [مصنف 6472] میں، ابن ابی عاصم نے [السنة 50] میں اور ابن عبدالبر نے [جامع بيان العلم 1495، 1497] میں اسی سند سے ذکر کیا ہے۔
← پچھلی حدیث (448) باب پر واپس اگلی حدیث (450) →