بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 3237 — وصی کے لئے کیا جائز ہے اور کیا ناجائز ہے؟
کتب سنن دارمی وصیت کے مسائل وصی کے لئے کیا جائز ہے اور کیا ناجائز ہے؟ حدیث 3237
حدیث نمبر: 3237 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: "الْوَصِيُّ أَمِينٌ فِي كُلِّ شَيْءٍ، إِلَّا فِي الْعِتْقِ، فَإِنَّ عَلَيْهِ أَنْ يُقِيمَ الْوَلَاءَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
یحییٰ بن ابی کثیر نے کہا: وصی سوائے غلام آزاد کرنے کے ہر چیز کا امین ہے، اور وہ ولاء قائم کر سکتا ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الوصايا/حدیث: 3237]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف، [مكتبه الشامله نمبر: 3248] »
اس اثر کی سند میں ولید بن مسلم مدلس ہیں اور عن سے روایت کی ہے۔ «وانفرد به الدارمي» ۔
الحكم: إسناده ضعيف
← پچھلی حدیث (3236) باب پر واپس اگلی حدیث (3238) →