بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 3236 — وصی کے لئے کیا جائز ہے اور کیا ناجائز ہے؟
کتب سنن دارمی وصیت کے مسائل وصی کے لئے کیا جائز ہے اور کیا ناجائز ہے؟ حدیث 3236
حدیث نمبر: 3236 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، عَنْ أبي وَهْبٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، قَالَ: "أَمْرُ الْوَصِيِّ جَائِزٌ فِي كُلِّ شَيْءٍ، إِلَّا فِي الِابْتِيَاعِ، وَإِذَا بَاعَ بَيْعًا لَمْ يُقِلْ"، وَهُوَ رَأْيُ يَحْيَى بْنِ حَمْزَةَ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ابووہب سے مروی ہے مکحول رحمہ اللہ نے کہا: وصی کا معاملہ مکان، دکان، زمین کے علاوہ ہر چیز میں جائز ہے، اگر وہ کسی چیز کی بیع کرے تو وہ منسوخ نہ ہو گی۔ یحییٰ بن حمزہ کی یہی رائے ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الوصايا/حدیث: 3236]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3247] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ ابووہب کا نام عبیداللہ بن عبید کلاعی ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11015]
الحكم: إسناده صحيح
← پچھلی حدیث (3235) باب پر واپس اگلی حدیث (3237) →