بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 3238 — وصی کے لئے کیا جائز ہے اور کیا ناجائز ہے؟
کتب سنن دارمی وصیت کے مسائل وصی کے لئے کیا جائز ہے اور کیا ناجائز ہے؟ حدیث 3238
حدیث نمبر: 3238 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ:"فِي مَالِ الْيَتِيمِ يَعْمَلُ بِهِ الْوَصِيُّ إِذَا أَوْصَى إِلَى الرَّجُلِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
منصور (ابن المعتمر) سے روایت ہے ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: یتیم کے مال میں وصی (جس کو وصیت کی گئی ہے) کام (تجارت وغیرہ) کرے گا جب کسی آدمی نے اس کو وصیت کی ہو۔ [سنن دارمي/من كتاب الوصايا/حدیث: 3238]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3249] »
اس اثر کی سند صحیح ہے، لیکن کسی اور محدث نے اسے روایت نہیں کیا۔ عبیداللہ: ابن موسیٰ، اور اسرائیل: ابن یونس بن ابی اسحاق ہیں۔
الحكم: إسناده صحيح
← پچھلی حدیث (3237) باب پر واپس اگلی حدیث (3239) →