بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 269 — علم کے ساتھ عمل اور اس میں حسن نیت کا بیان
کتب سنن دارمی مقدمہ علم کے ساتھ عمل اور اس میں حسن نیت کا بیان حدیث 269
أخْبَرَنَا وَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: "مَا أَخَافُ عَلَى نَفْسِي أَنْ يُقَالَ لِي: مَا عَلِمْتَ، وَلَكِنْ أَخَافُ أَنْ يُقَالَ لِي: مَاذَا عَمِلْتَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے اس کا ڈر نہیں کہ کہا جائے تم نے کیا علم حاصل کیا؟ بلکہ ڈر یہ ہے کہ مجھے کہا جائے عمل کیسا کیا؟ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 269]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «، [مكتبه الشامله نمبر: 270] »
یہ اثر متعدد کتب میں ہے، لیکن سند ضعیف ہے۔ دیکھئے: [الزهد لابن المبارك 39] ، [جامع بيان العلم 1201] ، [اقتضاء العلم والعمل 54] ، [مصنف ابن أبى شيبه 16446] ، [الزهد لأحمد 136] ، [حلية الأولياء 213/1]
وضاحت
(تشریح احادیث 267 سے 269)
یہ حدیث «يوتي يوم القيامة ............ فماذا عملت» کی طرف اشارہ ہے (یعنی قیامت کے دن پوچھا جائے گا علم حاصل کرنے کے بعد عمل کتنا کیا تھا)۔
اور اس میں صحابیٔ جلیل سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کی فضیلت ہے کہ ڈرتے ہیں قیامت کے دن اللہ کے نزدیک یہ سوال نہ کیا جائے کہ کیا عمل کیا؟
← پچھلی حدیث (268) باب پر واپس اگلی حدیث (270) →