بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 2571 — سود کھانے اور کھلانے والے پر لعنت کا بیان
کتب سنن دارمی خرید و فروخت کے ابواب سود کھانے اور کھلانے والے پر لعنت کا بیان حدیث 2571
حدیث نمبر: 2571 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَبُو نُعَيْمٍ ، سُفْيَانُ ، أَبِي قَيْسٍ ، هُزَيْلٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ هُزَيْلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:"لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا وَمُؤْكِلَهُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سود کھانے والے اور کھلانے والے پر لعنت کی ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب البيوع/حدیث: 2571]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح أبو قيس هو: عبد الرحمن بن مروان، [مكتبه الشامله نمبر: 2577] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 1597] ، [أبوداؤد 3333] ، [ترمذي 1206] ، [ابن ماجه 2277] ، [أبويعلی 4981] ۔ ابوقیس کا نام عبدالرحمٰن بن مروان ہے۔
وضاحت
(تشریح حدیث 2570)
ربا اردو زبان میں سود کو کہتے ہیں، یعنی اصل مال سے زیادہ لینا جو معروف و مشہور ہے، اور «آكِلَ الرِّبَا» میں سود لینے اور دینے والا دونوں شامل ہیں۔
یہاں «آكِلَ الرِّبَا» سے مراد سودخور اور «مُؤْكِلَهُ» سے مراد سود دینے والا ہے۔
اس حدیث سے سود لینے اور دینے کی حرمت ثابت ہوئی جس پر تمام علماء کا اجماع ہے، اور یہ نصِ قرآنی سے حرام ہے جس کا ذکر پچھلی حدیث کی شرح میں کیا جا چکا ہے۔
یہ ایسی لعنت ہے جس میں دنیا بھر کے بہت سے لوگ گرفتار اور مبتلا ہیں، اس لعنت سے بچنے اور چھٹکارا پانے کے لئے ہر مسلمان کو کوشش اور دعا کرنی چاہے، الله تعالیٰ ہم کو اس سے محفوظ رکھے، آمین۔
الحكم: إسناده صحيح أبو قيس هو: عبد الرحمن بن مروان
← پچھلی حدیث (2570) باب پر واپس اگلی حدیث (2572) →