بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 2570 — اس سود کا بیان جو زمانہ جاہلیت میں تھا
کتب سنن دارمی خرید و فروخت کے ابواب اس سود کا بیان جو زمانہ جاہلیت میں تھا حدیث 2570
حدیث نمبر: 2570 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، أَبِي حُرَّةَ الرَّقَاشِيِّ ، عَمِّهِ
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي حُرَّةَ الرَّقَاشِيِّ، عَنْ عَمِّهِ، قَالَ: كُنْتُ آخِذًا بِزِمَامِ نَاقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَوْسَطِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ أَذُودُ النَّاسَ عَنْهُ، فَقَالَ: "أَلَا إِنَّ كُلَّ رِبًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعٌ، أَلَا وَإِنَّ اللَّهَ قَدْ قَضَى أَنَّ أَوَّلَ رِبًا يُوضَعُ رِبَا عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، لَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوحرة رقاشی نے اپنے چچا سے روایت کیا، وہ کہتے ہیں: میں ایامِ تشریق میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اونٹنی کی نکیل تھامے ہوئے تھا اور لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے دور ہٹا رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرما رہے تھے: سنو لوگو! جاہلیت کا ہر قسم کا سود لغو اور معاف ہے۔ سنو! بیشک الله تعالیٰ نے فیصلہ صادر فرمایا ہے کہ پہلا سود عباس بن عبدالمطلب کا معاف کیا جاتا ہے۔ تمہارے لئے تمہارے اصل مال ہیں (یعنی اصل مال لے لو) نہ تم ظلم کرو اور نہ تم پر ظلم کیا جائے۔ [سنن دارمي/من كتاب البيوع/حدیث: 2570]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف، [مكتبه الشامله نمبر: 2576] »
اس روایت کی سند ضعیف ہے لیکن صحیح شواہد کے پیشِ نظر حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 3334] ، [ترمذي 3087] ، [ابن ماجه 3055] ، [أبويعلی 1569] ، [مجمع الزوائد 5692، 6660]
وضاحت
(تشریح حدیث 2569)
زمانۂ جاہلیت میں سود کا لین دین کیا جاتا تھا جس کو الله تعالیٰ کے حکم سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حجۃ الوداع میں حرام قرار دے دیا۔
انسان اگر کسی کو قرض دے تو اپنا اصل مال اس سے واپس لے، اس کے ساتھ سود نہ لے کیوں کہ سود حرام ہے۔
اس کی تفصیل آگے احادیث میں آ رہی ہے۔
الله تعالیٰ کا فرمان ہے: «‏‏‏‏﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ﴾ [البقرة: 278] » اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ سے ڈرو اور سود میں سے جو باقی ہے چھوڑ دو، اگر تم مومن ہو۔
اور یہ آخری آیات میں سے ہے جو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ کے آخری ایام میں نازل ہوئی۔
اسی طرح ارشادِ باری تعالیٰ ہے: «﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا الرِّبَا أَضْعَافًا مُضَاعَفَةً﴾ [آل عمران: 130] » اے مومنو! بڑھا چڑھا کر سود نہ کھاؤ۔
الحكم: إسناده ضعيف
← پچھلی حدیث (2569) باب پر واپس اگلی حدیث (2571) →