بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 2572 — سود خوری کی سخت سزا کا بیان
کتب سنن دارمی خرید و فروخت کے ابواب سود خوری کی سخت سزا کا بیان حدیث 2572
حدیث نمبر: 2572 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "لَيَأْتِيَنَّ زَمَانٌ لَا يُبَالِي الْمَرْءُ بِمَا أَخَذَ الْمَالَ، بِحَلَالٍ أَمْ بِحَرَامٍ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ انسان اس کی پرواہ نہیں کرے گا کہ اس نے مال کہاں سے حاصل کیا ہے؟ حلال طریقے سے یا حرام طریقے سے۔ [سنن دارمي/من كتاب البيوع/حدیث: 2572]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح وابن أبي ذئب هو: محمد بن عبد الرحمن، [مكتبه الشامله نمبر: 2578] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 2083] ، [نسائي 4466] ، [ابن حبان 6726] ، [دلائل النبوة للبيهقي 264/6] ، [شرح السنة 2032]
وضاحت
(تشریح حدیث 2571)
یعنی انسان کو ہر طرح سے پیسہ جوڑنے کی فکر ہوگی کہ کہیں سے بھی مل جائے، اور کسی طرح بھی ملے، خواہ شرعاً وہ جائز ہو یا ناجائز۔
ایک حدیث میں آیا ہے کہ ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ جو سود نہ کھائے گا اس پر بھی سود کا غبار پڑ جائے گا۔
آج کے دور میں یہ پیشین گوئی سچ ثابت ہو رہی ہے، اور یہ بلا عام ہوگئی ہے۔
بینک کے معاملات کے بنا چارہ نہیں، سود نہ بھی لیں تو غبار تو پہنچ رہا ہے۔
العیاذ باللہ۔
الحكم: إسناده صحيح وابن أبي ذئب هو: محمد بن عبد الرحمن
← پچھلی حدیث (2571) باب پر واپس اگلی حدیث (2573) →