بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 2521 — جو شخص کسی کو قتل کرے تو مقتول کا سامان اسی کو دیا جائے
کتب سنن دارمی سیر کے مسائل جو شخص کسی کو قتل کرے تو مقتول کا سامان اسی کو دیا جائے حدیث 2521
حدیث نمبر: 2521 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، ابْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ هُوَ: عُمَرُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَبِي مُحَمَّدٍ ، أَبِي قَتَادَةَ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ ابْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ هُوَ: عُمَرُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ:"بَارَزْتُ رَجُلًا فَقَتَلْتُهُ، فَنَفَّلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَلَبَهُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوقتاده رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے ایک کافر مرد سے مقابلہ کیا اور اسے قتل کر دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کا سامان مجھے عطا فرما دیا۔ [سنن دارمي/من كتاب السير/حدیث: 2521]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2528] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 3142] ، [مسلم 1751] ، [أبوداؤد 2717] ، [ترمذي 1562] ، [ابن ماجه 2836] ، [ابن حبان 4805] ، [الحميدي 427]
وضاحت
(تشریح احادیث 2519 سے 2521)
مقتول کے سامان سے مراد اس کے کپڑے، ہتھیار، سواری وغیرہ ہیں۔
امام کو اختیار ہے کہ حالتِ جنگ میں رغبت دلانے کے لئے ایسا انعام مقرر کرے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ جو کوئی بھی کسی کافر کا کام تمام کرے گا اس کا سامان بھی اسی کو ملے گا، اور یہ مالِ غنیمت کے علاوہ ہے۔
بعض فقہاء نے کہا: یہ حکم دائمی ہے۔
امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے کہا: یہ حکم دائمی نہیں ہے۔
(واللہ اعلم)۔
الحكم: إسناده صحيح
← پچھلی حدیث (2520) باب پر واپس اگلی حدیث (2522) →