بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 2450 — کون شہیدوں میں شمار ہو گا؟
کتب سنن دارمی کتاب جہاد کے بارے میں کون شہیدوں میں شمار ہو گا؟ حدیث 2450
حدیث نمبر: 2450 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، سُلَيْمَانُ، هُوَ: التَّيْمِيُّ ، أَبِي عُثْمَانَ ، عَامِرِ بْنِ مَالِكٍ ، صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ، هُوَ: التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "الطَّاعُونُ شَهَادَةٌ، وَالْغَرَقُ شَهَادَةٌ، وَالْغَزْوُ شَهَادَةٌ، وَالْبَطْنُ شَهَادَةٌ وَالنُّفَسَاءُ شَهَادَةٌ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: طاعون (میں مرنا) شہادت ہے، غرق (ہوکر مرنا) بھی شہادت ہے، جنگ کرتے ہوئے مرنا شہادت ہے، پیٹ کی تکلیف (میں مرنا) شہادت اور نفاس والی عورتوں کی موت شہادت ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الجهاد/حدیث: 2450]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد، [مكتبه الشامله نمبر: 2457] »
اس حدیث کی سند جید ہے۔ دیکھئے: [نسائي 2053] ، [أحمد 401/3، 466/6] ، [ابن أبى شيبه 233/5] ، [طبراني 56/8، 7328] ، [نسائي فى الكبريٰ 2181]
وضاحت
(تشریح حدیث 2449)
.یعنی جو شخص طاعون یا پیٹ کی بیماری کے سبب، یا پانی میں غرق ہو کر، یا عورت نفاس کی حالت میں، یا غازی جنگ کرتے ہوئے مر جائے تو ان سب کو شہادت کا درجہ ملے گا۔
بشرطیکہ اعمالِ صالحہ سے دامن بھرا ہو، شرک و بدعت سے آدمی دور ہو تو ان کی شہادت کی توقع کی جا سکتی ہے، اور ان شہیدوں کے احکام مختلف ہوں گے، درجہ شہیدوں کا ہوگا۔
الحكم: إسناده جيد
← پچھلی حدیث (2449) باب پر واپس اگلی حدیث (2451) →