بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 24 — اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو درخت اور چوپائے نیز جنوں کے ان پر ایمان لانے سے جو عزت بخشی اس کا بیان
کتب سنن دارمی مقدمہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو درخت اور چوپائے نیز جنوں کے ان پر ایمان لانے سے جو عزت بخشی اس کا بیان حدیث 24
إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، جَرِيرٌ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي ظَبْيَانَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: أَتَى رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَامِرٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَلَا أُرِيكَ آيَةً"، قَالَ: بَلَى، قَالَ:"فَاذْهَبْ فَادْعُ تِلْكَ النَّخْلَةَ"، فَدَعَاهَا فَجَاءَتْ تَنْقُزُ بَيْنَ يَدَيْهِ، قَالَ: قُلْ لَهَا تَرْجِعْ، قَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"ارْجِعِي"، فَرَجَعَتْ حَتَّى عَادَتْ إِلَى مَكَانِهَا، فَقَالَ: يَا بَنِي عَامِرٍ، مَا رَأَيْتُ رَجُلًا كَالْيَوْمِ أَسْحَرَ مِنْهُ!.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ بنوعامر کا ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تمہیں ایک نشانی دکھاؤں؟ اس نے کہا دکھائیے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کہا: جاؤ اس کھجور کے درخت کو بلاؤ، چنانچہ وہ شخص گیا اور اس درخت کو بلایا تو وہ (درخت) ان سے آگے آگے کودتا ہوا چلا آیا، اس شخص نے کہا (اس سے کہئے) لوٹ جائے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: لوٹ جاؤ، چنانچہ وہ درخت اپنی جگہ واپس چلا گیا تو بنوعامر کے اس آدمی نے کہا: اے بنی عامر میں نے آج تک ان سے بڑا جادوگر دیکھا ہی نہیں۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 24]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 24] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسند أحمد 223/1] ، [ترمذي 3632] ، [معجم كبير 12622] ، [مستدرك حاكم 620/2]
وضاحت
(تشریح حدیث 24)
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا معجزہ کہ درخت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنتے اور حکم بجا لاتے ہیں۔ کفار و مشرکین کا عناد کہ اطاعت و صداقت قبول کرنے کے بجائے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جادوگر گردانتے ہیں۔
الحكم: إسناده صحيح
← پچھلی حدیث (23) باب پر واپس اگلی حدیث (25) →